تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 646
تاریخ احمدیت۔جلد 24 624 سال 1968ء نمبر 1: مکرم عبد الحق صاحب سابق عربی مدرس ڈیرہ اسماعیل خاں لکھتے ہیں:۔مورخہ 9 نومبر ۱۹۶۸ء کو جماعت احمدیہ کی مسجد واقعہ بھاٹیہ بازار ڈیرہ اسماعیل خاں کو جلایا گیا تھا۔دو تین روز کے بعد میں نے اسی مسجد میں قرآن کریم کے جلے ہوئے اوراق دیکھے تو بے ساختہ یہی آواز دل سے نکلی۔انما اشکو بتی و حزني الى الله ے اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے افسوس صد افسوس۔۔۔کیا مخالفت میں مسلمان اتنا اندھا ہوا کہ خانہ خدا اور قرآن مقدس کو جلا ڈالا۔۔۔۔اور وعید خداوندی و سعی فی خرابھا کی بھی کچھ پروا نہیں کرتا۔“ نمبر ۲: مکرم محمد بشیر صاحب مالک یونین جنرل سٹور ڈیرہ اسماعیل خاں لکھتے ہیں۔”میں نے اپنی آنکھوں سے قرآن مجید جلے ہوئے ، اسی طرح کتب حدیث اور دیگر اسلامی لٹریچر کو جلا ہوا دیکھا۔قرآن مجید اور خانہ خدا کی اس قدر بے حرمتی مسلمان کہلانے والوں کے ہاتھوں دیکھ کر میرے دل کو سخت صدمہ ہوا۔اور دل نے کہا افسوس آج کا مسلمان نہ قرآن مجید کی عزت اور نہ خانہ خدا کا احترام مدنظر رکھتا ہے۔جماعت احمدیہ ڈیرہ اسماعیل خاں کی مسجد کو ویران کرنے والے اور خانہ خدا کو آگ لگانے والے یقیناً قرآنی وعید میں آئیں گے۔کاش یہ دین کے ٹھیکیدار اپنے اس بُرے فعل پر نادم ہوں۔میری یہ تحریر ایک سچی بات کے اظہار کے لئے اور دل کی تکلیف کو ظاہر کرنے کے لئے ہے۔نمبر ۳ : مکرم فضل داد روزی صاحب ممبر ڈویژنل کونسل صدر تحریک جمہوریت پاکستان ڈیرہ اسماعیل خاں لکھتے ہیں :۔ہمارے سر شرم و ندامت سے جھک جاتے ہیں جب ہم دیکھتے ہیں کہ فروعی مذہبی اختلافات کی بنا پر مذہب ہی کے ٹھیکیداروں کی انگیخت پر ۹ نومبر ۱۹۶۸ء کوکوئی ساڑھے بارہ بجے دن ایک مخصوص فرقہ کا دارالمطالعہ اور اس کی ملحقہ مسجد کو آگ لگا کر وہاں پڑے ہوئے قرآن حکیم کو جلا دیا اور احادیث کی کتابوں کو ورق ورق کر کے باہر بازار کے فرش پر بکھیر دیا۔موقعہ واردات پر جو کچھ میں نے دیکھا وہ صرف شرمناک ہی نہ تھا بلکہ نا قابل بیان بھی ہے۔قرآن حکیم جلا پڑا تھا۔اور احادیث و دیگر کتب مقدسہ کے اوراق بازار کے غلیظ نالے میں پڑے ہوئے ہماری مسلمانی کا زبانِ حال سے ماتم کر رہے تھے۔" 143 صاحبزادہ مرزا اوسیم احمد صاحب کی دہلی میں تشریف آوری صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب مع بیگم صاحبہ محترمه و عزیز مرزا کلیم احمد صاحب مورخه ۱۰ نومبر