تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 641 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 641

تاریخ احمدیت۔جلد 24 619 سال 1968ء وو لگی ”مسٹر حیدر! کیا تمہیں وہ دن یاد ہے جب ڈاکٹر Botwell نے کہا تھا کہ ڈاکٹروں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ تم بانجھ ہو چکی ہو۔میں نے کہا ہاں یاد ہے۔کہنے لگی دیکھو آج خدا تعالیٰ نے تم کو یہ امید افزا وقت دکھلا دیا ہے۔میں نے کہا دوا سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ایک برگزیدہ بندے کی دعا کا نتیجہ ہے۔کہنے لگی یہ حیران کن بات ہے۔اس کے بعد ڈاکٹروں نے ہسپتال میں داخل ہونے کے لئے کہا کیونکہ وہ اپنی زیر نگرانی رکھنا چاہتے تھے۔اس دوران میں مجھے پھر خاص قسم کی تکلیف شروع ہو چکی تھی دوران معاینہ چیف آفیسر میڈیکل ہسپتال اپنے دوسرے ڈاکٹروں کو میری بیماری کی نوعیت سمجھاتے ہوئے کہنے لگا کہ ایسی حالت میں بچہ کا رکنا بہت مشکل ہے اور جب تک سات ماہ مکمل نہ ہو جائیں بچہ خطرہ سے خالی نہیں۔یہ سنتے ہی عاجزہ نے حضرت اقدس کی خدمت میں تحریر کیا کہ ڈاکٹروں کا یہ خیال ہے اور ساتھ ہی یہ عرض کیا کہ حضور ڈاکٹر سمجھتے ہیں کہ شاید جڑواں بچے ہیں۔اس کے جواب میں حضرت اقدس کا مجھے گرامی نامہ موصول ہوا کہ خدا تعالیٰ آپ کو بیٹا دے گا انشاء اللہ۔یہ کس قدر خدا تعالیٰ کا احسان اور فضل پر فضل ہے کہ ڈاکٹر جن کے پاس سائنس کے نت نئے آلہ جات ہیں کہتے تھے کہ ہمیں پیٹ میں دو بچے معلوم ہور ہے ہیں اور پھر ساتھ ہی یہ کہ میری جیسی حالت میں بچہ کا رکنا بہت مشکل بلکہ ناممکن نظر آتا ہے اور دوسری طرف میرا آقا جو مغرب کی مادیت کے پرستاروں سے دور ربوہ کی سرزمین میں جلوہ افروز ہے اپنے خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق اور زندہ دعا کی قبولیت کا نشان حاصل کر چکا ہے ارشاد فرماتا ہے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ تمہیں بیٹا دے گا انشاء اللہ۔اور بارہا حضور اقدس کی طرف سے مجھے یہی تسلی ملتی رہی کہ خدا تعالیٰ انشاء اللہ فضل کرے گا اور نرینہ اولاد سے نوازے گا آخر وہ دن بھی آگیا جب یہ خدا تعالیٰ کا نشان با وجود ظاہری روکوں کے آپہنچا اور خدا تعالیٰ نے صحت و سلامتی سے اس عاجزہ کو بچہ ودیعت فرمایا الحمدللہ ثم الحمد للہ اور حضور اقدس نے بچے کا نام ” صادق احمد تجویز فرمایا۔بچہ کی ولادت نو ہفتہ قبل از وقت ہو چکی تھی بچہ بظاہر ٹھیک تھا مگر خون میں نقص پیدا ہونے کی وجہ سے دوسرے دن نومولود کے جسم کا تمام خون بدلنا پڑا۔اور پھر دوسری دفعہ اگلے دن بھی۔چنانچہ اگلے دن حضور کی خدمت میں بذریعہ تار دعا کی درخواست کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل کیا۔اس کے بعد یہ تکلیف بھی خدا تعالیٰ نے دور فرما دی۔ہرلمحہ صحت یابی کی طرف بچہ کو لے جاتا رہا۔اور اب خون بھی درست اور صحیح پیدا ہورہا ہے الحمد للہ الحمد للہ۔ان سطور کو تحریر کرتے وقت تک بچہ پونے چار ماہ کا ہے