تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 638
تاریخ احمدیت۔جلد 24 616 سال 1968ء آپریشن کے لئے تیار ہوں۔اس نے جواب دیا کہ اس صورت میں تمہیں چیف میڈیکل آفیسر کے سامنے اپنے خاوند کے ہمراہ جا کر اس امر کا اظہار کرنا ہو گا کہ تم اپنی مرضی سے آخری بار آپریشن کے لئے تیار ہولیکن میں پھر تمہیں بتلا دیتی ہوں کہ یہ آپریشن تمہاری جان کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔میں نے کہا ٹھیک ہے میں خوب جانتی ہوں کہ میرا پیٹ مختلف آپریشنوں سے اس قدر نازک ہو چکا ہے کہ اب ڈاکٹر ہمت ہار چکے ہیں۔اعضاء اس قدر مضمحل ہو چکے ہیں کہ ڈاکٹروں کے نزدیک ان میں زندگی کے آثار ختم ہیں۔ڈاکٹر نے مجھے اگلے ہفتہ اپنے خاوند کے ہمراہ آنے کے لئے کہا تا کہ اگر میں آپریشن کے لئے تیار ہوں تو یہ جلد ہو جائے اور آپریشن ملتوی کرنے سے اعضاء مزید نا کارہ نہ ہو جائیں۔میں اثبات میں جواب دے کر گھر چلی آئی۔ہمت جواب دے چکی تھی امید کا چراغ گل ہوا جاتا تھا۔بڑی مشکل سے گھر تک پہنچ سکی۔جذبات پر قابو محال تھا۔کسی طرف کوئی سہارا نظر نہ آتا تھا اب صرف ایک راہ تھی وہ یہ کہ خوش قسمتی سے ان دنوں میرے آقا حضرت خلیفہ المسیح الثالث لندن میں قیام فرما تھے۔گلاسگو کے دورہ سے واپس تشریف لا چکے تھے اور بے حد مصروف تھے اور میں اپنے میاں سید حیدر شاہ صاحب کی معیت میں حضور سے ملاقات کر چکی تھی۔اور قاعدہ یہ تھا کہ جس کی ملاقات پہلے ہو چکی ہوا سے دوبارہ ملاقات کا موقع نہیں دیا جا تا تھا۔گو اس وقت بھی اپنے لئے دعا کی درخواست کی تھی لیکن اپنے طور پر یہ امید تھی کہ علاج ہو رہا ہے۔انشاء اللہ خدا تعالیٰ فضل فرمائے گا اس لئے زیادہ زور اس بات پر نہ دیا تھا بلکہ مجموعی طور پر دعا کے لئے درخواست کرتی رہی۔اب جبکہ دنیا آنکھوں میں تاریک نظر آرہی تھی یہ ایک در تھا جس پر دھونی رمانے سے خدا تعالیٰ تک فریاد پہنچائی جاسکتی تھی۔حیران اور سوچنے سمجھنے سے لاچار کہ خاص ملاقات کے لئے کیسے اجازت حاصل کی جائے ناگاہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری کا خیال آیا کیونکہ وہ میرے شہید بھائی میجر منیر احمد مرحوم اور میرے والد بزرگوار خواجہ عبدالقیوم صاحب کو خوب جانتے تھے۔لہذا فوراً اسی بے کلی کی کیفیت میں انہیں فون کیا وہ میری بھرائی ہوئی آواز کی وجہ سے فون پر اس سے زیادہ نہ سمجھ سکے کہ مجھے حضرت صاحب کی ملاقات کی سخت ضرورت ہے۔آپ نے فرمایا کل آجانا میری ملاقات کا وقت ہے اس وقت تمہاری ملاقات میں خود کروا دوں گا۔تمام رات آنکھوں میں کاٹنے کے بعد اگلے دن حضرت اقدس کی خدمت میں جناب سنوری صاحب کی وساطت سے حاضر ہونے کی توفیق ملی۔از راہ شفقت