تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 633 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 633

تاریخ احمدیت۔جلد 24 611 سال 1968ء وه گو دوسرے فرقوں کی نسبت درمیانی زمانہ کے صلحاء امت محمدیہ بھی باوجود طوفانِ بدعات کے ایک دریائے عظیم کی طرح ہیں۔133 پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتایا ہے کہ آیت استخلاف میں كَمَا کے لفظ کے ساتھ ایک اور سلسلہ خلافت کا وعدہ بھی کیا گیا ہے اور یہ دوسرا سلسلہ خلافت ہے کیونکہ پہلے دو سلسلہ ہائے خلافت دراصل ایک ہی سلسلہ کی دو شاخیں ہیں ان کو میں نے خلافت راشدہ کا نام دیا ہے یہی نام میرے خیال میں زیادہ مناسب ہے۔تو ایک تو خلافت کا وہ سلسلہ ہے جو دوشاخوں پر مشتمل ہے اور جسے میں خلافت راشدہ کا نام دیتا ہوں۔اور ایک دوسری خلافت کا وعدہ ہے جو خلافت ائمہ ہے اور اس کا وعدہ بھی کما کے لفظ میں ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت سے یہ وعدہ کیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس وعدہ کو اس رنگ میں پورا کیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت کو اپنے مذہب اور ہدایت اور تورات سے دور جانے سے بچانے کے لئے حسب ضرورت ایک ایک وقت میں چار چار سو نبی پیدا کئے اسی طرح امت محمدیہ سے یہ وعدہ ہے کہ وہ امت محمدیہ میں قرآن کریم کے انوار کی شمع کو روشن رکھنے کے لئے ہر زمانہ میں ہر ملک میں ہر قریہ اور شہر میں ایسے لوگ پیدا کرتا رہے گا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء اور اس دوسرے سلسلہ خلافت کی کڑیاں ہوں گے وہ دنیا کو صحیح قرآنی تفسیر کی طرف بلانے والے ہوں گے اور اسلام کے چہرہ کو روشن رکھنے والے ہوں گے اور یہ وہ نجوم ہیں جن کا وعدہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو دیا ہے اور ان کی کثرت بھی اُن نجوم کی کثرت کی طرح ہی ہے جو آسمان پر ہمیں چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔پس اس سلسلۂ خلافت میں دو یا چار یا بارہ کا سوال نہیں ہزاروں لاکھوں ہیں جو امت محمدیہ میں پیدا ہوئے اور ہزاروں لاکھوں ہیں جو امت محمدیہ میں پیدا ہوں گے اور اسلام کے چہرہ کو روشن رکھیں گے اور ان کی مثال نجوم کی مثال ہے اور ان کی تعداد کی کوئی حد بست نہیں خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ کتنے پیدا ہو گئے اور کتنے پیدا ہوں گے۔جیسا کہ امت موسویہ میں ہزار ہا اس قسم کے خلفاء پیدا ہوئے اسی طرح امت محمدیہ میں ہزار ہا بلکہ کھوکھا شاید کروڑہا اس قسم کے خلفاء پیدا