تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 634 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 634

تاریخ احمدیت۔جلد 24 612 سال 1968ء ہوں کیونکہ امت محمدیہ اپنی وسعت مکانی اور وسعتِ زمانی میں امت موسویہ سے بہت بڑھ کر ہے۔ایک سوال رہ جاتا ہے کہ اس دوسری قسم کے خلفاء کا رشتہ اور تعلق پہلی قسم کے خلفاء سے کیا ہے کیونکہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ اگر ایک ہی وقت میں یہ خلفاء پیدا ہو گئے تو کہیں انار کی تو نہیں ہو جائے گی۔یعنی ہر ایک اپنی چلائے تو اس کے متعلق اسلام نے ہمیں یہ بتلایا ہے کہ پہلا سلسلہ تو وہ ہے کہ جس سلسلہ کا خلیفہ اپنے وقت کے تمام خلفاء کا سردار ہوتا ہے اور وہ اس کے اجزاء ہوتے ہیں یہ کہنا کہ حضرت ابوبکر کے زمانہ خلافت میں حضرت عمرؓ، حضرت عثمان ، حضرت علی اور دوسرے بزرگ صحابہ میں رُشد و ہدایت نہیں تھی غلط ہے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں وہ تمام بزرگ صحابہؓ جن میں سے بعض کو بعد میں خلافت ملی گوا کثر کو نہیں ملی اس دوسرے وعدہ کے مطابق جس کا میں نے اب آخر میں ذکر کیا ہے امت محمدیہ کے خلفاء کے زمرہ میں ہی تھے۔وہ مصلح اور ائمہ تھے مگر وہ شریعت کے استحکام اور اشاعت قرآن کی مہم میں خلیفہ وقت کی مدد کرنے والے تھے اور خلافت کے ماتحت تھے۔اگر خلافتِ راشدہ سے اپنا تعلق قطع کر لیتے تو وہ خدا کی نگاہ میں خدا سے دور ہو جاتے اور تمام برکتیں ان سے چھین لی جاتیں جیسا کہ ان لوگوں سے برکتیں چھین لی گئیں جنہوں نے ظاہری طور پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے تعلق کا اظہار کیا لیکن حضرت ابوبکر سے علیحدہ ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم آپ کی بات نہیں مانتے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم مانتے تھے آپ ﷺ ہم میں نہیں رہے تو ہم آزاد ہو گئے۔بعض ایسا کہنے والے بھی تھے لیکن ساری برکتیں ان سے چھین لی گئیں۔آج ان کے ناموں سے بھی آپ واقف نہیں لیکن اس دوسرے سلسلہ کے خلفاء امت، صلحاء امت، ائمہ امت خلافتِ راشدہ کے ماتحت ہوتے ہیں۔اگر اس سے اپنا رشتہ قطع کر لیں تو بلعم باعور بن جاتے ہیں خدا تعالیٰ سے ان کا تعلق قطع ہو جاتا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے آ جاتے ہیں لیکن جب تک ان کا رشتہ قائم رہتا ہے خلافت راشدہ کا خلیفہ ان تمام کا سردار ہوتا ہے اور بڑا خوش قسمت ہے وہ خلیفہ وقت جس کے ماتحت دوسروں کی