تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 632 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 632

تاریخ احمدیت۔جلد 24 آپ علیہ السلام فرماتے ہیں :۔610 سال 1968ء برائے خدا سوچو کہ اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ ہمیشہ قیامت تک تم میں روحانی زندگی اور باطنی بینائی رہے گی اور غیر مذہب والے تم سے روشنی حاصل کریں گے اور یہ روحانی زندگی اور باطنی بینائی جو غیر مذہب والوں کو حق کی دعوت کرنے کے لئے اپنے اندر لیاقت رکھتی ہے یہی وہ چیز ہے جس کو دوسرے لفظوں میں خلافت کہتے ہیں۔پھر آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:۔132- در آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا سلسلہ جاری ہے مگر آپ ﷺ میں سے ہو کر اور آپ ماہ کی مہر سے۔اور فیضان کا سلسلہ جاری ہے کہ ہزاروں اس امت میں سے مکالمات اور مخاطبات کے شرف سے مشرف ہوئے اور انبیاء کے خصائص ان میں موجود ہوتے رہے ہیں۔سینکڑوں بڑے بڑے بزرگ گزرے ہیں جنہوں نے ایسے دعوے کئے۔چنانچہ حضرت عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ ہی کی ایک کتاب فتوح الغیب کو ہی دیکھ لو۔پھر آپ علیہ السلام نے تحفہ گولڑویہ میں یہ فقرہ بھی لکھا ہے جسے پڑھ کر بڑی لذت آتی ہے۔وہاں بحث یہ ہے جہاں سے میں نے یہ فقرہ لیا ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی تھی کہ پہلی تین صدیاں انتہائی بزرگی ، تقدس اور قرب الہی پانے والوں کی ہوں گی اور اسلام اپنی روحانیت کے کمال کو پہنچا ہوا ہو گا لیکن پھر اس کے بعد ایک تنزل کا دور آئے گا جو ہزار سالہ دور ہے اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اصطلاح میں اس دور کو فی اعوج کا زمانہ کہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں اس غیرت کی وجہ سے جو اسلام کے لئے آپ کو تھی اور اس شدید محبت کی وجہ سے جو آپ کے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تھی یہ خیال پیدا ہوا کہ معترض یہ اعتراض کرے گا کہ پہلی تین صدیوں کے بعد پھر اندھیرا چھا گیا یہ کیا ہوا، اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض آتا ہے تو آپ نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ:۔