تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 47
تاریخ احمدیت۔جلد 24 47 سال 1967ء مکہ معظمہ منتقل ہو گئے۔۱۸ کی شام کو جلالۃ الملک فیصل کی طرف سے استقبالیہ دعوت تھی۔عزیز انور احمد اور میں بھی مدعو تھے۔جلالۃ الملک نے اپنی تقریر میں قضیہ یمن کا ذکر فرمایا اور صراحت فرمائی کہ ان کا موقف یہ ہے کہ جو عناصر بھی بیرون یمن سے یمن میں داخل ہوئے ہیں وہ یمن سے نکل جائیں اور یمن کی رعایا بغیر کسی بیرونی تداخل کے آزادانہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرے۔مزید فرمایا ہم اعلان کرتے ہیں اور آپ سب کو اس پر گواہ ٹھہراتے ہیں کہ یمنی رعایا جو فیصلہ بغیر کسی بیرونی تداخل یا کسی جبر کے کرے گی ہم اس کے پابند ہوں گے خواہ فیصلہ ہماری نگہ میں پسندیدہ ہو یا نہ ہو۔جناب اسمعیل از ہری صاحب صدر سوڈان دعوت استقبالیہ میں خصوصی مہمان تھے انہوں نے بھی حاضرین کو خطاب فرمایا۔“ حج کے اختتام پر بھی حضرت چوہدری صاحب کی ملاقات سعودی عرب کے شاہ فیصل سے ہوئی۔اس سال ایک سو سے زائد احمدی احباب نے حج بیت اللہ کی سعادت پائی۔تعمیر بیت اللہ کے مقاصد سے متعلق ایمان افروز خطبات کا سلسلہ حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے ۳۱ مارچ ۱۹۶۷ء کو تعمیر بیت اللہ کے تئیں عظیم الشان مقاصد سے متعلق نہایت ایمان افروز خطبات کا ایک سلسلہ جاری فرمایا۔جو ۱۶ جون ۱۹۶۷ء کو پایہ تکمیل کو پہنچا۔آخری روز حضور نے ثابت کیا کہ تعمیر بیت اللہ کے تمام مقاصد رسول کریم ﷺ کی بعثت کے ذریعے پورے ہوئے۔حضور کے یہ خطبات بھی نظارت اصلاح وارشاد نے کتابی شکل میں شائع کر دیئے۔حضور نے اپنے اس سلسلہ خطبات کے آخر میں ان خطبات کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:۔ایک دن اللہ تعالیٰ نے بڑے زور کے ساتھ مجھے اس طرف متوجہ کیا کہ موجودہ نسل کا جو تیسری نسل احمدیت کی کہلا سکتی ہے، صحیح تربیت پانا غلبۂ اسلام کے لئے اشد ضروری ہے۔یعنی احمدیوں میں سے وہ جو ۲۵ سال کی عمر کے اندر اندر ہیں یا جن کو احمدیت میں داخل ہوئے ابھی پندرہ سال نہیں گزرے۔اس گروہ کی اگر صحیح تربیت نہ کی گئی تو ان مقاصد کے حصول میں بڑی رکاوٹیں پیدا ہو جائیں گی جن