تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 625
تاریخ احمدیت۔جلد 24 603 سال 1968ء سالانہ اجتماع اطفال الاحمدیہ اطفال الاحمدیہ کا سالانہ اجتماع مورخه ۱۸ تا ۲۰ / اکتوبر ۱۹۶۸ ء ربوہ میں ایوان محمود کے وسیع لان میں منعقد ہوا۔جس میں ۶۲ مجالس کے ۱۶۳۳ ار اطفال نے شرکت کی۔محترم صاحبزادہ (حضرت) مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ نے افتتاح فرمایا۔اجتماع کے آخری روز حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے تشریف لا کر اطفال سے اختتامی خطاب فرمایا۔حضور نے بچوں کو صفائی کی طرف خصوصی توجہ دلائی۔حضور نے فرمایا کہ حضرت نبی کریم ﷺ کے مبعوث ہونے کا مقصد یہ نہ تھا کہ ایک نسل کی صحیح تربیت کی جائے۔تربیت کا سلسلہ قیامت تک کے لئے تھا۔پھر حضور نے فرمایا کہ آپ نبی ریم ع کے بچے ہیں آپ کو کوشش کرنی چاہیئے کہ آپ عملی نمونہ کے لحاظ سے نبی کریم ﷺ کی ذریت طیبہ بن جائیں۔خطاب کے بعد حضور نے اجتماعی دعا کرائی۔لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کا گیارھواں سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے زیر انتظام منعقد ہونے والے ناصرات الاحمدیہ اور لجنہ اماءاللہ کے سالانہ اجتماع کا سہ روزہ پروگرام خالص دینی ماحول میں ۱۸ اکتوبر ۱۹۶۸ء بروز جمعۃ المبارک شروع ہوکر ۲۰ اکتوبر ۱۹۶۸ء بروز اتور نہایت درجہ کامیابی و کامرانی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔اس اجتماع میں ۸۶ مجالس کی ۶۲۴ نمائندگان نے شرکت کی۔ربوہ کی خواتین کی تعداد اس کے علاوہ تھی۔122 حضور انور کا اجتماع سے روح پرور خطاب سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے ۱۹ اکتو بر ۱۹۶۸ء کو لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع سے ایک نہایت روح پرور خطاب فرمایا جس میں خواتین احمدیت کو اشاعت دین اور توحید باری کے قیام کے سلسلے میں اہم ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی اور خوشخبری دی کہ اگر ہم ان ذمہ داریوں کو کما حقہ ادا کریں تو اللہ تعالیٰ سے ہمارا زندہ تعلق پیدا ہو جائے گا۔حضور نے یہ حقیقت بھی پوری وضاحت کے ساتھ نمایاں کی کہ ایک مومن اور مومنہ کا مقام خوف ورجاء کے درمیان ہوتا ہے۔اس تعلق میں حضور نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب آئینہ کمالات اسلام صفحه ۳۴۹ ،۳۵۰ کا درج ذیل اقتباس پڑھا اور اس کی حقیقت افروز انداز میں تشریح بھی فرمائی کہ:۔