تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 622
تاریخ احمدیت۔جلد 24 600 سال 1968ء حال ہی میں انہوں نے ایٹم برائے امن کا انعام حاصل کیا ہے۔۱۹۵۹ء میں وہ رائل سوسائٹی کے ممبر مقرر ہوں گئے۔ایک سائنسی اعزاز کے عنوان کے تحت مولانا عبدالماجد صاحب مدیر صدق جدید لکھنو نے لکھا:۔اول تو انعام ایک مسلمان کو بجائے رقص ، موسیقی ، مصوری، نقاشی ، سنگ تراشی اور آرٹ اور کلچر کے کسی شعبہ کے سائنس کے شعبہ میں (اور وہ بھی جنگ کی نہیں امن کی مد میں ) ملنا اور پھر اس ماہر سائنس کو اسے بجائے اپنی ذات پر صرف کرنے کے دوسرے طلبہ کے لئے وقف کر دینے کی مثال ایثار کی پیش کرنا خبر کے یہ دونوں پہلو ندرت سے لبریز ہیں۔مصر، عراق اور شام، ایران، ترکی، افغانستان کتنے ہی مسلم ملوں کے لئے ایک نظیر و شع راہ کا کام دے سکتی ہے۔118- اجتماع خدام الاحمدیہ سے حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کے روح پر ور خطابات اس سیال خدام الاحمدیہ مرکزیہ کا سالانہ اجتماع ۱۸، ۱۹ اور ۲۰ را کتوبر ۱۹۶۸ء کو محلہ دارالعلوم کے شمال میں واقع میدان میں منعقد ہوا جس میں ۲۳۵ مجالس کے۲۸۵۴ خدام نے شرکت کی۔حضرت خلیفتہ امیج الثالث نے اپنے افتتاحی خطاب میں نوجوانانِ احمد بیت کو ہدایت فرمائی کہ اپنے مقام کو پہچانیں اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور پورے طور پر نبھانے کی طرف متوجہ ہوں۔اس ضمن میں حضور نے قرآنی آیت اِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْآمِينُ (القصص: ۲۷) کی روشنی میں واضح فرمایا:۔لغت اور قرآن کریم کی اصطلاح کی رُو سے القوۃ کے تین معنی ہیں۔نمبر ا جسم کی قوت نمبر ۲ دل کی مضبوطی۔نمبر ۳ خارجی طاقت۔اور الامین کے معنی اس نوجوان کے ہیں جس میں اصولی طور پر تین قسم کی امانتیں نمبر۔اللہ کی امانت نمبر ۲۔رسول کی امانت اور نمبر ۳۔آپس کی امانت۔القوۃ کے پہلے معنی کی تشریح کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ خادم اپنی زندگی اسی طرح گزارے کہ مناسب وقت میں ورزش کرے۔کھانے میں محتاط ہو اور مناسب آرام کرے۔دل کی مضبوطی کے ضمن میں فرمایا کہ اس کیلئے تقویٰ کی ضرورت ہے جس سے انسانی قلب میں بزدلی اور کمزوری پیدا نہیں ہو سکتی۔نیز فرمایا کہ دل کی مضبوطی کیلئے تو کل چاہیئے۔تو کل یہ ہے کہ تدبیر میں کوشش کو انتہا تک پہنچانا اور نتیجہ خدا پر چھوڑنا۔اور فرمایا کہ ایمان کا کمال انسان کے دل کو مضبوط کرتا