تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 614 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 614

تاریخ احمدیت۔جلد 24 592 سال 1968ء اس سے محروم ہیں اور اس وجہ سے میرا دل سخت دیکھی ہے اور میں شدید کرب میں ہوں۔یہ ایڈریس پڑھتے ہوئے سارا وقت اس نوجوان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی دھار بہہ رہی تھی۔انہوں نے ایڈریس ختم کیا اور مجھ سے خواہش کی کہ آپ بھی کچھ کہیں۔میں بولنے ہی لگا تھا کہ ان کے والد مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ آپ ذرا ٹھہریں اور وہ اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلے گئے معا بعد ہی واپس آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک ٹیپ ریکارڈر تھا۔وہ ٹیپ ریکارڈر لے کر میرے پاس بیٹھ گئے اور مائیک میرے منہ کے سامنے کر کے کہا کہ اب آپ جو کہنا چاہتے ہیں کہیں۔میں نے انگریزی زبان میں ہی بچہ کو مخاطب کر کے کہا کہ تمہارے دل کے اندر جو آگ سلگ رہی ہے اللہ تعالیٰ اس کو ضائع نہیں کرے گا اور مجھے یقین ہے کہ جلد یا بدیر تمہارے والدین کو حق کی پہچان کی توفیق ملے گی۔یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیریں ہیں اور اللہ تعالیٰ جس طرح چاہتا ہے اپنی تقدیروں کو جاری فرماتا ہے۔کبھی تو والدین کو حق کی پہچان کی پہلے سعادت نصیب ہوتی ہے اور اولادکو بعد میں اور کبھی اولا د سابقون میں شامل ہوتی ہے اور والدین ان کے پیچھے آتے ہیں۔اس لئے گھبراؤ نہیں۔تم بھی دعا کرو اور میں بھی دعا کروں گا اللہ تعالیٰ ان کو حق پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے گا۔ان کے مکان سے رخصت ہو کر ہم لوگ مسجد گئے جہاں جماعت کی طرف سے استقبالیہ تھا۔وہاں میری نظر پڑی تو میں نے دیکھا کہ اس نوجوان کے والد بھی اجتماع میں بیٹھے ہوئے ہیں۔استقبالیہ کے بعد جماعت کے بعض دوستوں نے ذکر کیا کہ ہمیں ان کو دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی ہے کیونکہ یہ تو جماعت کے کسی فرد کے قریب جانا بھی برا سمجھتے ہیں یہ یہاں کیسے آگئے۔جماعت نے اس موقع پر جو ایڈریس دیا اس میں اپنی محبت اور اخوت کا اظہار تھا۔میں نے اپنے جواب میں بھی اپنی قلبی کیفیت کا اظہار کیا۔بعد میں یہ صاحب ہمارے ایک احمدی دوست کو کہنے لگے کہ میری سمجھ میں تو نہیں آتا کہ ایک شخص جس کا ہم سے نہ نسلی تعلق ہے نہ تمدنی ، نہ زبان ہماری ایک ہے لیکن یہاں کے لوگوں کا اس سے اور اُس کا یہاں کے لوگوں سے اس قدر پیار اور محبت کا سلوک ہے۔اس واقعہ کے اظہار سے میرا یہ مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے جو ہم پر ہیں یہ بھی ایک بڑی نعمت ہے کہ غیروں میں سگے بھائی بہنوں میں بھی شاید ایسی اخوت نہ نظر آتی ہو جو احمدیت کی سلک میں منسلک ہو کر ہم میں ہے۔سو اس کی قدر کرنی چاہیئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کو ہمیشہ جماعت کو سامنے رکھنا چاہیئے جو حضور نے اس بارہ میں فرمائے ہیں۔بعد میں ہمارے اس نوجوان نے مجھے بتایا کہ آپ کے جانے کے بعد میری والدہ کہنے لگیں کہ