تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 603 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 603

تاریخ احمدیت۔جلد 24 581 سال 1968ء نمونے اس کے ذریعہ ظاہر ہوتے ہیں۔اس لئے ایسے لوگوں کے غلط نظریات کو بھی دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔حضور نے خدام کو نصیحت فرمائی کہ جب آپ نظام خلافت کی حفاظت کا وعدہ کرتے ہیں تو اس کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ خلافت کے بارہ میں پیدا کی جانے والی ہر غلط فہمی کا ازالہ کریں اور نظام خلافت سے پوری وابستگی اختیار کریں اور اگر ایسی کوئی صورت پیدا ہو تو اسے فرو کرنے کی کوشش کریں۔10 حضرت خلیفہ المسیح الثالث کا مجلس انصاراللہ کراچی سے خطاب مجلس انصاراللہ کراچی کا آٹھواں سالانہ تربیتی اجتماع یکم ستمبر ۱۹۶۸ء بروز اتوار احمد یہ ہال میں سوا نو بجے شروع ہوا۔مجلس انصاراللہ کراچی کی خوش قسمتی تھی کہ سیدنا حضرت خلیفة المسیح الثالث أن دنوں کراچی میں تشریف فرما تھے اور حضور نے ازراہ عنایت اجتماع کا افتتاح فرمایا۔انصار نے حضور انور کی قیادت میں اپنا عہد دہرایا۔اس کے بعد حضور انور نے انصار اللہ سے خطاب فرمایا۔حضور نے فرمایا انصاراللہ پر بڑی ذمہ داری اپنے نفسوں کی اصلاح اور ماحول کی تربیت ہے۔اگر انصاراللہ اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو پھر اس بات کی امید کی جاسکتی ہے کہ ہمارے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے ان وعدوں کو پورا کرے گا جو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کئے۔یہ ضروری ہے کہ نسلاً بعد نسل جماعت کی تربیت ہوتی رہے کیونکہ صرف اسی صورت میں اللہ تعالیٰ اسلام کو غالب کرے گا۔لیکن اگر ہم آئندہ نسلوں کی تربیت نہ کر سکے تو پھر غیر تربیت یافتہ نسل اسلام کی کامیابیوں کی وارث نہیں ہوسکتی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو موعود سرزمین کی بشارت دی گئی تھی لیکن جب ان کے ماننے والوں نے ویسی قربانیاں پیش نہ کیں جن کا مطالبہ کیا گیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کو چالیس سال تک التواء میں ڈال دیا اور اس کے بعد اگلی نسل کو وہ تربیت حاصل ہوئی جو اس کے لئے ضروری تھی اور اس دوسری نسل کے ذریعہ یہ وعدہ پورا۔حضور انور نے قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں اہل وعیال کی تربیت کے اصولوں کی تشریح فرمائی اور احباب کو توجہ دلائی کہ انہیں اپنے اہل و عیال کی تربیت اور آئندہ نسلوں کی اصلاح کیلئے خاص کوشش کرنی چاہیئے۔حضور انور نے فرمایا کہ ہر مربی کو خود نمونہ پیش کرنا چاہیے کیونکہ اسی صورت میں دوسروں کی تربیت کی جاسکتی ہے۔حضور کا یہ ایمان افروز خطاب ۵۵ منٹ تک جاری رہا اور اس کے بعد حضور مقام اجتماع سے