تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 599
تاریخ احمدیت۔جلد 24 577 سال 1968ء شرکت کے لئے جمع ہوتے ہیں۔سمجھ میں نہیں آتا اس قدر کثیر تعداد میں لوگ اس چھوٹی سی بستی میں کیونکر ٹھہرائے جاتے ہیں جبکہ سردیاں اپنے شباب پر ہوتی ہیں۔علاوہ ازیں اتنے اشخاص کے کھانے پینے کا انتظام کیونکر کیا جاتا ہے۔بیان کیا جاتا ہے ہر ایک کو گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے میں کھانا تقسیم کر دیا جاتا ہے۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس جماعت میں کس قدر منظم طریقہ پر کام ہوتا ہے اس اجتماع میں امیر سے امیر اور غریب سے غریب کھانا لنگر خانہ سے کھاتا ہے اور ان میں ہزاروں افراد ایسے ہوں گے جو اپنے گھروں میں نفاست سے کھانے کے عادی ہوں گے۔مهمان خانه یانگر خانه ایک وسیع کمپونڈ میں پختہ عمارت ہے جس کے جانب مغرب طویل اور وسیع ڈائننگ ہال ہے اور جانب شمال کئی کمرے ہیں جن میں مہمان ٹھہرائے جاتے ہیں۔جانب جنوب بڑے بڑے ہال اور جانب مشرق پانچ چھ فیملی کوارٹر ہیں جن میں ایسے مہمان جن کے ساتھ اہل وعیال ہوں مقیم رہ سکتے ہیں۔بیان کیا جاتا ہے کہ اسی لنگر خانہ سے سالانہ اجتماع کے خوردنوش کا بھی انتظام کیا جاتا ہے۔ملازمین مہمان خانہ منکسر المزاج، ہمدرد اور فرض شناس ہیں جو مہمان کی ضروریات کی فوری تکمیل کرتے ہیں۔اس لنگر خانے کا سالانہ بجٹ ایک لاکھ روپے بیان کیا جاتا ہے۔قبرستان آبادی کے جانب مشرق سڑک کے اس پار پہاڑیوں کے دامن میں قبرستان کے لئے ایک وسیع میدان ہے جس میں موجودہ امام صاحب کے پیشرو کی قبر ہے مزار مبارک کے اطراف دیگر قبریں ہیں جن کی خصوصیت یہ ہے کہ کتبہ پر مرنے والے کی زندگی کے اہم واقعات کندہ ہیں۔قبریں سلیقہ سے بنائی گئی ہیں اور قطار در قطار ہیں۔اس کو خوبصورت بنانے کے لئے پھولوں کے اور سایہ دار درخت لگائے جارہے ہیں۔حضرت امام جماعت احمدیہ حضرت صاحب علوم مشرقیہ کے ماہر ہیں اور علوم مغربی کی تعلیم انگلستان میں پاکر فارغ التحصیل ہونے پر امامت پر فائز ہونے سے پیشتر درس و تدریس میں مشغول رہے۔مقامی کالج کے پرنسپل تھے۔اس وقت سن شریف ساٹھ ، دراز قامت، گٹھیلا جسم ، خوبصورت ہنس مکھ چہرہ جس سے تقدس ٹیکتا