تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 596
تاریخ احمدیت۔جلد 24 574 سال 1968ء تعلیم اور اعلی خدمات پر فائز ہونے کے رعونت و تکبر مزاج میں نہیں پایا جاتا۔اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کو بھی خدا اور مذہب کی ویسی ہی ضرورت ہے جیسے متوسط طبقے کو ہوتی ہے۔اس آبادی کا چھوٹا بڑا ہر شخص پابند صوم وصلوٰۃ ہے۔پنج وقت مسجد میں نمازیں ہوتی ہیں اور محلے کا ہر شخص ان میں شرکت کرتا ہے اور یہاں کا بازار نماز عشاء کے لئے بند ہوتا ہے تو صبح ہی کھلتا ہے۔جمعہ کی نماز واقعی ایسی ہوتی ہے جیسے نماز عید ہوتی ہے۔کثیر تعداد میں لوگ شرکت کرتے ہیں۔عورت مرد سبھی نماز میں شریک ہوتے ہیں۔مسجد میں ایک چوتھائی حصہ عورتوں کے لئے مختص ہے۔مردانہ اور زنانہ حصہ کے درمیان قنات ہوتی ہے۔حضرت امام صاحب خود پنجوقتہ نماز پڑھاتے ہیں۔ماہ رمضان میں عبادت کی بہار دیکھنے کے قابل ہوتی بیان کی جاتی ہے۔رسومات سے اجتناب یہ کام عام طور پر مسلمانوں میں نہ صرف خوفناک بلکہ تباہ کن ہوتا ہے۔کئی مسلمانوں کے خاندان ایسے ہیں جو شادی کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے اور ان کی لڑکیاں بن بیاہی رہ جاتی ہیں۔مگر جماعت احمدیہ نے اس کام کو نہایت آسان کر دیا ہے۔ان کے یہاں نہ جوڑے گھوڑے کے بارے میں تکرار ہوتی ہے اور نہ جہیز کے متعلق سوال و جواب۔دلہن والے اپنی حیثیت سے جو بھی دیں قابل قبول۔جو کچھ دیا جاتا ہے وہ دلہن کو نہ کہ دولہے کو۔نکاح کی تاریخ اور وقت کا اعلان ہو جاتا ہے۔مکان پر دوست احباب جمع ہو جاتے ہیں۔نکاح ہونے کے بعد شرکاء عقد دونوں کو دعا دے کر رخصت ہو جاتے ہیں۔البتہ ولیمہ حسب حیثیت ضرور کیا جاتا ہے۔کسی قسم کی رسومات شادی سے پہلے اور بعد میں نہیں کئے جاتے۔عقد کو ضرورت شرعی تصور کیا جاتا ہے اور اس طرح سے اسراف سے چھٹکارا ہو جاتا ہے۔شادی کے بعد نہ قرض خواہوں کے تقاضے ہوتے ہیں اور نہ عدالتی ڈگریوں کے ماتحت گھر کا اسباب نیلام ہوتا ہے۔موت واقع ہو جانے کی صورت میں مسجد میں اعلان ہو جاتا ہے۔دوست احباب اور عزیز و اقارب پر سہ کے لئے گھر پر جمع ہو جاتے ہیں۔صرف مرنے والے کے لئے کفن اور قبر کے اخراجات حب حیثیت کئے جاتے ہیں جو زیر بارگن نہیں ہوتے۔البتہ مرنے والے کے عزیز واقارب قبر پر جا کر مرنے والے کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں۔چہلم کے روز چالیس قسم کے کھانوں سے یہ حضرات محروم ہیں۔