تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 594 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 594

تاریخ احمدیت۔جلد 24 572 سال 1968ء ربوہ کی آبادی لاہور سرگودھا کی شاہراہ پر واقع ہے۔اس آبادی سے دو تین میل کے فاصلہ پر دریائے چناب بہتا ہے جس پر ریل کا پل ہے جس کے اوپر موٹروں اور دیگر سواریوں کے گزرنے کیلئے سڑک تعمیر کی گئی ہے۔یہ پل لاہور، لائکپور جیسے مقامات کو سرگودھا سے جو ایک مقام ہے ملاتا ہے۔اس آبادی کی خصوصیت یہ ہے کہ بغیر حکومت کی امداد کے جماعت احمدیہ نے اس بستی کو اپنے فنڈ سے بسایا ہے۔سڑکیں ، مکانات، بازار وغیرہ جماعت کے ذاتی تعمیر کردہ ہیں۔اس آبادی میں بھی جیسا کہ پنجاب بھر میں قدم قدم پر ہینڈ پمپس ہیں، پانی ہینڈ پمپس سے کثیر مقدار میں فراہم ہوتا ہے۔انسانی اور حیوانی ضروریات کے علاوہ باغبانی کی ضروریات بھی پوری ہوتی ہیں۔حکومت کی جانب سے دریائے چناب سے سر براہی آپ کی کوششوں کے آثار پائے جاتے ہیں۔جس کی تکمیل کے لئے کچھ مدت درکار ہوگی۔آمد ورفت کی سہولتیں شاہراہ پر ہر وقت بسیں چلتی ہیں۔جو سر گودھا اور لائکپورکو ملاتی ہیں۔بسیں آرام دہ اور تیز رفتار ہیں کرائے کم ہیں۔اس کے علاوہ یہاں ریلوے اسٹیشن بھی ہے جو حال میں تعمیر ہوا ہے۔اور مقامی ضروریات کے لئے کافی ہے۔ریلوے لائن آبادی کو دوحصوں میں تقسیم کرتی ہے جس پر تیز رفتارٹرینیں بھی چلتی ہیں اور یہاں سے لاہور اور کراچی کو بھی آسانی سے جایا جا سکتا ہے۔اس لائن پر درمیانی اسٹیشنوں کے لئے ریل کاریں بھی چلائی جاتی ہیں۔ایک ڈاکخانہ اور تار گھر بھی ہے۔جماعت کے اخراجات سے ایک اچھا ہاسپٹل بھی تعمیر کیا گیا ہے جس میں اطراف واکناف کے لوگ بغرض علاج آتے ہیں۔یہ دواخانہ قابل ڈاکٹروں کی زیر نگرانی ہے۔آبادی کے وسط میں ایک گول بازار ہے جس میں سے پانچ چھ سڑکیں نکلتی ہیں اور ان سڑکوں کے بازوؤں میں مکانات و دفاتر تعمیر کئے گئے ہیں۔۲۳ محلے ہیں اور ہر محلے میں ایک مسجد ہے۔ایک کمیٹی ہے جو آپسی جھگڑوں کے علاوہ محلے کے لوگوں کے نماز و روزہ کی بھی نگرانی کرتی ہے۔آبادی میں اگر چہ پولیس کی چوکی بھی ہے مگر یہاں کے لوگ اپنے تصفیے محلے کی کمیٹی سے طے کراتے ہیں جس کا مرافعہ جماعت کی ایک اعلی کمیٹی کرتی ہے جس میں جماعت کے زعماء ہوتے ہیں۔سڑکوں کے ہر دو طرف درخت لگائے گئے ہیں جو یہاں کی شدید گرمی میں بہت آرام دہ ثابت ہوتے ہیں۔گرمیوں میں سخت گرمی اور سردیوں میں سخت سردی ہوتی ہے اور کچھ عرصے سے درختوں کی وجہ سے بارش کی اوسط میں اضافہ ہوا ہے۔