تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 593
تاریخ احمدیت۔جلد 24 571 سال 1968ء تا کہ اسلامی فرقوں میں اتحاد ہو اور دیگر فرق اسلامی اس اعلیٰ درجہ کی عملی زندگی تنظیم اور تبلیغ کو اپنائیں۔وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا البَلاغ ربوہ کی بستی ”ربوہ“ لاہور سے تقریباً ایک سومیل بجانب جنوب مغرب شہر سرگودھا سے قریب دریائے چناب کے کنارے تین جانب چھوٹی پہاڑیوں سے گھرا ہوا واقع ہے جو جماعت احمدیہ کا صدر مقام ہے۔یہاں اندرونِ پاکستان اور مغربی ممالک کی احمدی جماعتوں کے تنظیمی اور تبلیغی شاندار دفاتر ہیں جو سلیقہ سے تعمیر ہوئے ہیں اور خوبصورت لانس اور پھلواریوں سے مزین ہیں۔اس کی آبادی پندرہ ہزار بتلائی جاتی ہے۔تقریباً کئی سو مکانات پختہ اور دیدہ زیب ہیں جن میں عصری ضروریات مہیا ہیں۔باقی مکانات اوسط درجہ کے مگر پختہ ہیں۔آبادی کو ایک پلان کے تحت بسایا گیا ہے۔اس کو بسانے کی ابتداء پندرہ برس اُدھر کی گئی اور اس قلیل عرصے میں اس قدر ترقی کارکنان جماعت احمدیہ کی سلیقہ شعاری اور انتھک کوششوں کی دلیل ہے۔تقسیم ہند کے فوراً بعد بنظر تحفظ قادیان کی احمدی آبادی کو بہ ہزار دقت لاہور منتقل کیا گیا۔حضرت امام صاحب جماعت احمد یہ کوفکر دامنگیر ہوئی کہ اپنی جماعت کو لا ہور کی رنگینیوں سے دور رکھا جائے۔حضرت موصوف نے اس منتقلی آبادی سے پہلے خواب دیکھا تھا کہ وہ ایک ایسے مقام پر ہیں جو بلندی پر واقع ہے اور اس کے ایک جانب دریا بہہ رہا ہے اور تین جانب چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں ہیں۔لاہور آنے کے بعد ایسے مقام کی تلاش کرائی گئی۔ایک سال کی جستجو کے بعد اس مقام کو بعد معاینہ پسند فرمایا اور حکومت سے تقریباً بارہ سوا ایکڑ اراضی جو ہمیشہ سے ویران رہتی تھی خرید لی۔زمین بہت شور ہے اور بیشتر مقامات پر کھاری پانی دستیاب ہوتا ہے جو پینے کے لئے ناموزوں اور دیگر ضروریات کے لئے بھی غیر مطبوع ہے۔اس کے باوجود موجودہ لانس اور پھلوار یوں کو دیکھ کر بے ساختہ زبان سے نکل جاتا ہے ہے زمین شور سنبل بر نیارد کون کہتا ہے“ ربوہ قرآن کا لفظ ہے اور بلندی کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔چونکہ یہ مقام بلندی پر واقع ہے اور قرآن میں حضرت عیسی علیہ السلام کے تعلق سے مستعمل ہوا ہے۔ہوسکتا ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ( جنہیں مسیح موعود علیہ السلام مانا جاتا ہے ) کے خلفاء نے ادبی نقطہ نظر سے بھی یہ نام پسند کیا ہو۔