تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 592 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 592

تاریخ احمدیت۔جلد 24 570 سال 1968ء فروغ کے لئے مرکز میں سائنسی امور کے لئے ایک علیحدہ وزارت قائم کی جائے۔منصوبہ بندی کمیشن میں سائنسدانوں کو بھی نمائندگی دی جائے۔اور بنیادی تحقیق کے لئے ایک کونسل قائم کی جائے۔انہوں نے سائنسی تحقیق کے کام کو صحیح خطوط پر چلانے کے لئے یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کے درمیان تعاون پر بھی زور دیا۔94 ڈاکٹر عبد السلام صاحب کی کراچی ریڈیو سے تقریر ڈاکٹر صاحب نے چند روز بعد کراچی ریڈیو سے عالمی سائنسی نشریات کے پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ ملکی زبانوں میں سائنسی تعلیم ممکن ہے۔بہت سے ممالک اپنی ملکی زبان میں سائنسی تعلیم دے رہے ہیں۔البتہ چونکہ انگریزی زبان میں سائنسی علوم کے متعلق الفاظ کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے اس لئے ابھی یہ ممکن نہیں کہ انگریزی زبان کو بالکل ترک کر دیا جائے۔جن ممالک میں ملکی زبان میں سائنسی تعلیم دی جاتی ہے ان میں بھی سائنسی اصطلاحات انگریزی زبان کی ہی مستعمل ہوتی ہیں۔یہی طریق اردو میں بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔آپ نے کہا پاکستان میں زراعت کی ترقی کے لئے بہترین بیج استعمال کرنا چاہئیے یہ خوشی کی بات ہے کہ پاکستان میں اس سلسلہ میں جو تجربے کئے گئے ہیں ان کے نتائج بہت خوشکن نکلے ہیں۔حیدر آباد دکن کے ایک معزز مسلمان ربوہ میں جناب میر اسد علی صاحب بی اے ایل ایل بی ایڈووکیٹ حیدر آباد دکن (بھارت ) پاکستان کے مشہور شیعہ لیڈر علامہ رشید ترابی صاحب مرحوم ( وفات ۱۸ دسمبر ۱۹۷۳ء) کے قریبی عزیزوں میں سے تھے۔حکومت نظام کے زمانہ میں ڈپٹی کلکٹر کے عہدے پر فائز رہے۔اس سال انہیں سفرِ پاکستان کے دوران جماعت احمدیہ کے عالمی مرکز ربوہ جانے کا بھی اتفاق ہوا۔واپسی پر موصوف نے اپنے تاثرات جماعت احمدیہ حیدرآباد (دکن) کے جلسہ میں بیان فرمائے اور ساتھ ہی ضبط تحریر میں لا کر نظارت دعوت و تبلیغ قادیان کے توسط سے مدیر بدر مولوی محمد حفیظ صاحب بقا پوری کو بھی ارسال کر دئیے۔جنہیں درج ذیل کیا جاتا ہے۔ان تاثرات سے ۱۹۶۸ء کے ربوہ کا ایک حسین اور ولولہ انگیز نقشہ آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں کہ ” مجھے ربوہ جانے کا اتفاق ہوا۔میں نے جو چیزیں عام افواہ کے خلاف دیکھیں ان کا اظہار سطور ذیل میں کر رہا ہوں