تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 591
تاریخ احمدیت۔جلد 24 569 سال 1968ء نے ان میں زندگی کی رمق پیدا فرما دی ہے۔اور اب وہ مرکز کو اپنی رپورٹیں بھجواتی اور مرکز کے خطوط کا جواب دینے لگی ہیں۔الحمد للہ علی ذالک وَ جَزَاهُمُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ ان مجالس کا مرکز سے رابطہ یقیناً خوشی کا موجب ہے مگر یہ خوشی باقی نہیں رہ سکتی جب تک یہ مجالس نیک اعمال نہ بجالانے لگ جائیں۔جن کے ذکر کے بغیر رپورٹ فارم خالی خالی اور بے رونق نظر آتے ہیں۔بعض ایسی ہی ماہانہ رپورٹیں دیکھ کر دل متفکر ہوا اور ذیل کے دوشعر بلا تکلف موزوں ہوئے۔جام خالی ہیں ! قائدینِ کرام! ان کو بھرنے کا انتظام کریں حسب توفیق ربّ ذی الاکرام کچھ کریں کام، کچھ تو کام کریں مجلس اطفال الاحمد ی ربوہ کی دوسری سالانہ تربیتی کلاس 92 ماه اگست ۱۹۶۸ء میں مجلس اطفال الاحمد یہ ربوہ کی دوسری تربیتی کلاس منعقد ہوئی اس کلاس کا افتتاح مکرم قاضی محمد نذیر صاحب لائلپوری نے کیا۔یہ کلاس ایک ہفتہ تک مسجد محمود میں روزانہ صبح ساڑھے سات بجے سے ساڑھے دس بجے تک جاری رہی جس میں سلسلہ کے مختلف علماء اور عہد یداران اطفال کو قرآن کریم، احادیث، عام دینی مسائل، تاریخ احمدیت اور نماز سادہ و ترجمہ پڑھاتے رہے۔اس کلاس کا اختتامی اجلاس زیر صدارت محترم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صدر مجلس خدام الاحمدیہ منعقد ہوا۔آپ نے اپنے خطاب میں اطفال کو بچپن سے نماز با جماعت ،سچائی ، دیانت جیسی نیکیاں بجالانے اور عمدہ اوصاف پیدا کرنے کی طرف مختلف مثالوں کے ساتھ وضاحت کرتے ہوئے توجہ دلائی نیز تربیتی اجلاس کے انعقاد پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ خواجہ عبدالمومن صاحب ناظم اطفال الاحمدیہ ربوہ کی توجہ سے اب ربوہ کے اطفال میں رونق نظر آتی ہے۔اختتامی اجلاس میں ۲۵۰ / اطفال نے شرکت کی۔اس کلاس میں ربوہ کی ۱۷ مجالس کے۷۰ نمائندگان شریک ہوئے۔۶۰ / اطفال نے امتحان دیا جن میں سے ۵۷ کامیاب ہوئے۔ڈاکٹر عبد السلام صاحب کا حکومت پاکستان کو قیمتی مشورہ نامور فرزندِ احمدیت اور صدر مملکت پاکستان کے اعلیٰ سائنسی مشیر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے اگست ۱۹۶۸ء کے دوسرے ہفتے میں حکومت پاکستان کو مشورہ دیا کہ ملک میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے