تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 587 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 587

تاریخ احمدیت۔جلد 24 565 سال 1968ء نمبرا انتخابات کے وقت بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ فلاں عہدہ دوسرے کو نہ ملے مجھے ضروریل جائے۔اور خدا تعالیٰ کی یہ تعلیم ان کی آنکھوں سے اوجھل ہو جاتی ہے کہ عہدہ اس کے اہل کو ملنا چاہیے اور عہدہ لینے کی خواہش نہیں ہونی چاہیئے۔جن کے ذمہ یہ فرض لگایا گیا ہے کہ وہ کیس کو عہدہ دیں ان کو اس تعلیم کا ہر وقت خیال رکھنا چاہیئے۔عہدے دوطریقوں سے دئے جاتے ہیں۔کبھی وہ مرکز کے مشورہ سے دئے جاتے ہیں اور کبھی وہ جماعت کے مشورہ سے دئے جاتے ہیں اور جو بھی عہدہ دینے کا ذمہ وار ہوا سے چاہیئے وہ اہلیت کو مدنظر رکھے“۔نمبر۲ ” وہ لوگ جو خلفاء اور اولیاء اور مجد دین سے دشمنی اور عنا در کھنے والے ہیں اور تکبر اور اباء سے ان کے سامنے اپنی گردنوں کو اونچا کرنے والے ہیں وہ قرآن کریم کی اس آیت اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مهينا (احزاب: ۵۸) کی رو سے ملعون اور خدا تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہیں۔خود کو وہ جو مرضی ہے سمجھتے رہیں۔اس سے کیا حاصل؟ دوسرے میرا ذہن اس طرف گیا تھا کہ يُؤْذُونَ اللہ میں ایک بڑا وسیع مضمون خدا تعالیٰ نے بیان کیا ہے۔یعنی تمام بنی نوع انسان کا اس میں ذکر ہے اور یہ قید نہیں کہ کوئی مسلمان ہے یا نہیں کوئی اہل کتاب ہے یا نہیں، کوئی مشرک ہے یا غیر مشرک کوئی صحیح مذہب والا ہے یا بد مذہب ہے۔نمبر ۳ ہر وہ شخص جو خدا کے بتائے ہوئے اصول اور تعلیمات کے خلاف اس کے بندوں کو خواہ وہ کوئی ہوں ان حقوق سے محروم کرنے کی کوشش کرتا ہے جو حقوق اللہ تعالیٰ نے قائم کئے ہیں وہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچانے والا ہے۔مثلاً ہمسایہ کے حقوق ہیں۔اہل محلہ کے حقوق ہیں۔نظام کے حقوق ہیں۔نظام کے اندر پھر بیسیوں حقوق ہیں مثلاً موصی ہیں ان پر وصیت کا حق ہے۔اور یہ بڑا ہی اہم حق ہے اور اس کو پوری طرح ادا کرنا چاہیئے۔پھر امراء کی اطاعت اور ان کے ساتھ تعاون ہے۔ان کے کاموں میں ان کا محمد ہونا ہے۔تو نظام سلسلہ مضبوط بنیادوں پر مستحکم ہو جائے تا ہمارا مقصود ہمیں مل جائے اور اسلام ساری دنیا میں غالب ہو جائے۔غرض جتنے حقوق اللہ تعالیٰ نے قائم کئے ہیں وہ رسول کے ہوں یا دوسرے بندوں کے ہوں جو شخص ان حقوق کو توڑتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو ایذاء پہنچاتا ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچتی ہے یا اللہ کے کسی اور بندہ کو ایذاء پہنچتی ہے۔حق تلفی بھی ایذاء کا موجب بنتی ہے۔غرض جو بھی ان حقوق کو توڑتا ہے جن کے متعلق حکم