تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 582
تاریخ احمدیت۔جلد 24 560 سال 1968ء ۱۹ سے شروع کر کے ۲۴ تک اور پھر ۲۶ کو ہر شام سات بجے سے پونے نو بجے تک سوال و جواب کی مجلس قائم ہوتی رہی جس میں شمولیت عام تھی۔19 کی صبح کو جناب نور احمد بولستاد صاحب ناروے سے تشریف لائے اور ۲۲ کی سہ پہر کو واپس تشریف لے گئے۔۲۰ کی دو پہر کو جناب محمود ایرکسن صاحب سٹاک ہالم (سویڈن ) سے تشریف لائے اور چند گھنٹے قیام کیا۔۲۱ کو ایک خصوصی اجلاس جماعت کے احباب کا ہوا جس میں خاکسار نے عبادات کے کما حقہ ادائیگی کی طرف توجہ دلائی۔۲۳ کو بعد دو پہر ایک عیسائی مشنری جریدے کے نمائندے نے جو ہندوستان میں بھی رہ چکے ہیں خاکسار سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہوئی۔ان کی رپورٹ ان کے جریدے میں شائع ہو چکی ہے۔۲۵ کی دو پہر کو ڈاکٹر لنگ (Dr۔Lanning) نے خاکسار کی کھانے کی دعوت کی۔یہ معروف ڈینش سیاستدان ہیں اور ہر سال اقوام متحدہ کی اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں ڈینش وفد کے رکن کے طور پر شمولیت کرتے رہے ہیں۔خاکسار کے ساتھ عرصے سے ان کے دوستانہ تعلقات ہیں۔اسی شام مسٹر سوین ہینسن (Sven Hansson) نے جناب امام صاحب کی اور خاکسار کی کھانے کی دعوت کی۔یہ ڈینیش قوم کے ماہر کیمیائی انجینئر ہیں۔۳۹ سال عمر ہے بارہ سال سے مسلمان ہیں۔ان کی بیوی ملایا (Malaya) کی مسلمان ہیں۔اور غالباً وہی ان کے اسلام قبول کرنے کا باعث ہوئیں۔میاں بیوی محض رسمی مسلمان نہیں مخلص اور پابندِ صوم وصلوٰۃ ہیں۔خاکسار نے کم کسی مغربی مسلمان کو اسلام کی اقدار میں اس قدر رچا ہوا دیکھا ہے جیسے مسٹر ہینسن رچے ہوئے ہیں۔ہماری شام کی مجلس میں شامل ہوتے۔قرآن کریم کا ڈینیش ترجمہ ساتھ لاتے اور جہاں کسی آیت کا ذکر آتا تر جمہ نوٹ کرتے۔مجلس کے بعد نماز مغرب میں شامل ہوتے اور ایسے انکسار اور اخلاص سے نماز پوری کرتے اور ایسے اطمینان اور وقار سے اور اس قدرسنوار کر پڑھتے کہ رشک ہوتا۔ان کے چار بچے ( تین فرزند اور ایک بیٹی ) ہیں۔گھر کا ماحول اسلامی ہے۔بیوی بالکل سادہ طبیعت کی ہے اور خواتین کے ساتھ نماز میں شامل ہوتیں۔کھانے کے بعد مسٹر مہینسن نے سلسلے کے متعلق گفتگو شروع کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی اور صداقت اور مرتبے کے قائل اور موید ہیں۔بیعت میں ابھی تامل ہے۔آخر میں فرمایا میری بیوی اگر مجھے بیعت کے لئے کہے تو میں کل صبح