تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 569
تاریخ احمدیت۔جلد 24 547 سال 1968ء ایک آواز لا ہوری حلقوں سے یہ بھی اٹھی ہے کہ مجھے ملازمت سے علیحدہ کر دیا جائے۔اس کے متعلق میں صرف اس قدر کہنا چاہتا ہوں کہ اگر مجھے علیحدہ بھی کر دیا جائے تو بھی میرے دلی تاثر کو نہیں مٹایا جا سکتا جو میرے قلب پر نقش ہے۔عقائد کے متعلق حضرت صاحب سے میری کوئی گفتگو نہیں ہوئی اور نہ انہوں نے اس بحث کو چھیڑا۔میرے عقائد وہی ہیں جو تھے البتہ ایک اضافہ اس میں یہ ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہر ایک آیت اللہ کی حیثیت رکھتا ہے اور برکات سماوی جو حضرت صاحب لے کر آئے تھے آپ کی اولاد کو بھی ورثہ میں ملی ہیں۔حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کے نورانی اور پُرسکون چہرہ کی بھی محض یہ وجہ ہے کہ وہ حضرت صاحب کی نسل سے ہیں اور حضرت صاحب کی دعا اپنی اولاد کے حق میں کہ با برگ و بارہوویں مولی کے یار ہوویں حرف بہ حرف پوری ہوئی ہے۔ایک مرکب روحانی نسخہ والسلام خاکسار محمد یعقوب خاں حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے ۲۱ جون ۱۹۶۸ء کو روحانی امراض کے لئے ایک تیر بہدف روحانی نسخہ بیان فرمایا جس کی تفصیل مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل جالندھری نائب ناظر اصلاح و ارشاد کے الفاظ میں درج کی جاتی ہے:۔مجھے ۱۶ سے ۲۲ جون ۱۹۶۸ء تک بعض ضروری کاموں کے سلسلہ میں مظفر آبا داور مری جانے کا اتفاق ہوا۔۲۱ جون کی نماز جمعہ مسجد احمدیہ مری میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی اقتداء میں ادا کی۔حضور نماز سے فارغ ہو کر زمرہ احباب میں کچھ دیر کیلئے تشریف فرما رہے۔ایک نوجوان عزیز نے اپنی بیماری کیلئے حضور سے دوا پوچھی۔حضور نے اس سلسلہ میں روحانی امراض کیلئے ایک مرکب نسخہ بھی بیان فرمایا۔حضور نے فرمایا:۔انسان کو چاہیئے کہ بکثرت استغفار کرے۔اس سے نفس کی اندرونی بیماریوں کا علاج ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ انسان کی سپر بن جاتا ہے کیونکہ مومن استغفار کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجاتا ہے۔بیرونی حملوں کیلئے مومن کو لَا حَولَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ العلى العظيم بكثرت