تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 40 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 40

تاریخ احمدیت۔جلد 24 40 سال 1967ء داخلہ لینے کے لئے عیسائی نام اختیار کرنالازمی ہے لیکن اس سادہ سے افریقی نے بھی اس امر کی تائید کردی۔آپ نے کہا کہ اگر ان باتوں کو پیش نظر رکھ کر آج سے چالیس پچاس سال قبل کی افریقہ میں مسلمانوں کی تعلیمی حالت کا اندازہ لگانے کی کوشش کی جائے تو یہ سمجھ لینا دشوار نہ ہوگا۔جب کہ مسلمانوں کا ایک بھی سکول وہاں موجود نہ تھا تو عیسائی سکولوں میں مسلمان بچوں کا داخلہ لینے کے لئے عیسائی نام اختیار کرنے کے علاوہ بپتسمہ لینا بھی ضروری ہوتا ہوگا۔جس کا نتیجہ یہ تھا کہ عیسائیت کا پڑھا لکھا طبقہ ترقی کر رہا تھا اور مسلمان اس دوڑ میں پیچھے تھے۔آپ نے جب اس بات کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ۱۹۲۱ء میں ایک ہندوستانی مسلم بزرگ مولانا عبدالرحیم صاحب نیر نے لیگوس نائیجیریا میں مسلمان بچوں کے لئے سب سے پہلا سکول جاری کیا اور ا سکے دوسال بعد گولڈ کوسٹ میں ایک مسلمان بزرگ فضل الرحمان صاحب مرحوم نے ایک سکول جاری کیا اور یہ سکول نہ صرف کامیابی کے ساتھ چلائے گئے بلکہ گولڈ کوسٹ کے گورنر نے اس سکول کے دورہ کے وقت اپنی رائے کا اظہار تحریری طور پر یوں کیا:۔وو ” یہ سکول باقی تمام سکولوں کے لئے ایک مثالی حیثیت رکھتا ہے۔کاش عیسائی بھی ایسا ہی کام کریں۔( گورنر گولڈ کوسٹ )‘“ اس کے بعد نائیجیریا اور غانا میں بھی مزید مسلمانوں نے سکول کھول دیئے اور ان کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا گیا اور کچھ دیر بعد سیرالیون میں بھی مسلمان بچوں کی اسلامی طریق پر نشو و نما کے لئے تعلیمی ادارے جاری ہو گئے۔آپ نے کہا کہ مذکورہ سکول شروع سے لے کر آج تک خدا کے فضل و کرم سے صحیح رنگ میں اسلامی سکول کہلانے کے مستحق ہیں۔مسلمانوں کے ان سکولوں کی کامیابی کی دلیل اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتی ہے کہ جب نائیجیریا کے وزیر اعظم الحاج تفاوا بلیوا شمالی علاقہ سے اپنے خاندان کے ساتھ لیگوس تشریف لائے تو اپنے بچوں کو مسلمانوں کے سکول میں داخل کروایا اور سیرالیون میں آنر بیل ایس ایم مصطفیٰ صاحب نے بریگیڈیئر گلزار احمد کے سامنے دل کھول کر سکولوں کے اساتذہ کرام اور کارکردگی کی تعریف کی۔آنریبل ایس ایم مصطفیٰ نے کہا کہ اگر مسلمان عیسائی لوگوں کے سامنے میدانِ عمل میں نہ آتے اور اسلام کی خدمت کے لئے دوسرے ذرائع کے علاوہ تعلیمی ادارے جاری نہ کرتے تو آج یہاں ایک