تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 41
تاریخ احمدیت۔جلد 24 41 سال 1967ء مسلمان نظر نہ آتا کیونکہ عیسائی سکولوں میں داخلہ لینے کے لئے سب سے پہلے عیسائی نام رکھنا پڑتا تھا اور داخلہ کے وقت بپتسمہ بھی لینا ضروری تھا۔بریگیڈیئر گلزار احمد نے آگے چل کر بتایا کہ ان سکولوں کی وجہ سے نہ صرف مسلمان عیسائی ہونے سے رُک گئے بلکہ مسلمانوں کے تعلیمی نظام سے متاثر ہوکر سینکڑوں عیسائی جو پہلے مسلمان تھے پھر حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔اس بات کا اعتراف نائیجیریا کے ایک کیتھولک اخبار ” ہیرلڈ نے یوں کیا ہے کہ:۔عیسائی سکولوں کے طلباء اپنی تعلیم ختم کرنے کے بعد پچاس فیصدی کی نسبت سے اپنے مذہب کو خیر آباد کہہ دیتے ہیں اور یہ افسوس کی بات ہے کہ ستر سال تک ہم نے جو کوششیں کیں ان کے باوجود عیسائیت یہاں اپنے قدم نہ جما سکی۔“ پرائمری اور مڈل سکولوں کے علاوہ اب خدا کے فضل وکرم سے مسلمانوں کے سیکنڈری سکول بھی کھل چکے ہیں۔غانا، سیرالیون اور نا پنجیر یا میں سیکنڈری سکولوں کی تعداد سات تک پہنچ چکی ہے اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ مذکورہ سکولوں کے علاوہ اور بھی مسلمان اس طرف توجہ دے رہے ہیں نائیجیریا میں کئی مسلمان اس طرف توجہ دے رہے ہیں نائیجیریا میں کئی مسلمان سوسائیٹیاں ایسی ہیں جو صرف تعلیمی امور کی طرف توجہ دے رہی ہیں۔مشرقی اور مغربی افریقہ میں مسلمانوں کے سکول جاری کرنے اور ان کو مستحکم بنیادوں پر کھڑا کرنے کا سہرا غیر صاحب ( مراد حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیر )، مولانا حکیم فضل الرحمن صاحب، مولانا نذیر احمد صاحب علی ، مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری، مولوی نصیر الدین صاحب، مولوی بشارت احمد صاحب بشیر اور مولوی نذیر احمد صاحب کے سر ہے۔ان کے علاوہ ایک ہمارے بزرگ دوست جو ایک با اثر اور کثیر الاشاعت ماہنامہ کے ایڈیٹر ہیں ان کو بھی بہت دخل ہے۔جناب نیم سیفی صاحب ایک کہنہ مشق صحافی اور نامور شاعر بھی ہیں۔بریگیڈئیر گلزار احمد نے بتایا کہ:۔ٹو گولینڈ کی آزادی کی تقریب میں حصہ لینے والوں میں نائیجیریا کی یونیورسٹی کا ایک انگریز پروفیسر مسٹر ور ر ڈ بھی شامل تھا۔دوران گفتگو پاکستان کے ذکر سے لباس کی بات چھڑ گئی۔پروفیسر ورڈ کہنے لگا سمجھ نہیں آتا کہ جوں ہی کوئی معاشرہ اسلام قبول کر لیتا ہے۔اس کے افراد ستر ڈھانپنا کیوں شروع کر دیتے ہیں؟