تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 553
تاریخ احمدیت۔جلد 24 531 سال 1968ء کارپوریشن بھی چلتا ہے۔اس کارپوریشن کے وسیع و عریض فلیٹ میں ایک اجتماع بلایا گیا تھا جس میں شرکت کے لئے جماعت احمدیہ کو بھی دعوت دی گئی۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جماعت احمدیہ کا شائع کردہ انگریزی ترجمہ قرآن اس سوسائٹی کی چاروں لائبریریوں میں ہے۔۵ جون کو اس سوسائٹی کا اجتماع منعقد ہوا جس میں جماعت احمدیہ کی طرف سے مکرم مولوی سمیع اللہ صاحب انچارج احمد یہ مسلم مشن بمبئی کو شرکت کی دعوت دی گئی جس میں انہوں نے تو حید اور رسالت کے متعلق اسلامی نظریہ پیش کیا۔آپ کی تقریر سے ہر طبقہ کے لوگ بہت متاثر ہوئے۔اس سوسائٹی کے بانی ڈاکٹر دین شاہ مہتہ نے کہا کہ یہ تقریر ایسی ہے کہ اس سے آج کا اجتماع کامیاب ہو گیا ہے۔پشاور یونیورسٹی میں قاضی محمد اسلم صاحب کا لیکچر 63۔قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے ( کینٹب ) پرنسپل تعلیم الاسلام کا لج ربوہ ایک ممتاز ماہر نفسیات تھے۔آپ نے پشاور یونیورسٹی کے فارسٹ انسٹیٹیوٹ (FOREST INSTITUTE) کی سٹاف کلب میں۔اجون ۱۹۶۸ء کو ایمان باللہ کے موضوع پر انگریزی میں فاضلانہ لیکچر دیا۔اور نہایت وضاحت کے ساتھ بتایا کہ وجو دباری کے حق میں یہ ایک نہایت وزنی اور قوی دلیل ہے کہ ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہونے والے انبیائے کرام اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی غیر محدود طاقتوں اور قدرتوں اور اس کی صفات کے متعلق شہادت دیتے چلے آئے ہیں۔اور ہر زمانہ کے لوگ ان کی اس شہادت کو دل سے قبول کرتے ہوئے عقیدہ وجود باری پر ایمان لائے اور ان کی تعلیم کے مطابق اپنی زندگیوں میں تغیر پیدا کرتے چلے آئے ہیں۔سامعین نے حضرت قاضی صاحب کی تقریر کو بہت توجہ اور دلچسپی کے ساتھ سنا۔تقریر کے بعد دیر تک سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہا۔اس تقریر کا اہتمام مجلس خدام الاحمدیہ پشاور یونیورسٹی نے کیا تھا۔جلسہ کا اہتمام ڈاکٹر غلام اللہ صاحب آف انٹا مالوجی ڈیپارٹمنٹ نے کیا۔اور صدارت کے فرائض پر و فیسر عبدالحی علوی صاحب نے ادا فرمائے۔اس موقعہ پر پشاور یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کے پروفیسر صاحبان اور دیگر اہلِ علم حضرات موجود تھے۔64 مشرقی پاکستان میں سترھویں تربیتی کلاس کا انعقاد مشرقی پاکستان میں سکولوں اور کالجوں کے طالب علموں کے لئے ایک تربیتی کلاس کا انتظام کیا