تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 39 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 39

تاریخ احمدیت۔جلد 24 39 سال 1967ء مغربی افریقہ میں مبلغین اسلام کی شاندار دینی خدمات کا اعتراف بریگیڈیئر گلزار احمد پاکستان کی ایک معروف شخصیت ہیں، جنہیں علمی حلقوں میں اہلِ سیف، اہل قلم اور صاحب ذوق شمار کیا جاتا ہے۔آپ نے ۱۹۶۰ء میں افریقی ممالک کا دورہ کیا اور پاکستانی وفد کے لیڈر کی حیثیت سے ٹو گولینڈ کے یوم آزادی (۲۷ را پریل ۱۹۶۰ء) کی تقریب میں شرکت فرمائی۔آپ کا سفر نامہ تذکرہ افریقہ کے نام سے معارف لمیٹڈ کراچی سے ۱۹۶۴ء میں شائع ہوا۔اس کتاب کے صفحات ۱۱۴ ۱۱۵ ،۱۳۳، ۱۳۷، ۱۴۰ تا ۱۴۲ میں جماعت احمدیہ کی افریقہ میں تبلیغی سرگرمیوں کا تذکرہ موجود ہے۔روزنامہ ”مغربی پاکستان لاہور ) نے ۱۹ مارچ ۱۹۶۷ء کی اشاعت میں مبلغین اسلام کی تبلیغی مساعی اور اس کے خوشکن نتائج کے زیر عنوان ایک مضمون شائع کیا۔یہ مضمون احسان چوہدری صاحب سیالکوٹ نے جناب بریگیڈئیر صاحب کے مطبوعہ مضامین کی روشنی میں مرتب کیا تھا۔اور گو اس میں کہیں احمدیت کا ذکر نہیں تھا مگر اس میں جہاں جہاں ” مبلغین اسلام“ اور ان کی تبلیغی و تعلیمی مساعی کا ذکر کیا گیا تھا ان سب کا تعلق اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ سے ہے۔چنانچہ احسان اللہ چوہدری صاحب تحریر کرتے ہیں کہ گذشتہ دنوں ہمیں پاک فوج کے ایک بہادر اور عظیم سپوت سے ملنے کا اتفاق ہوا۔آپ کا نام بریگیڈیئر گلزار احمد صاحب ہے۔موصوف اپنی فوجی زندگی کی مصروفیت سے کچھ وقت نکال کر ادب کی خدمت بھی کرتے ہیں۔آپ کے متعدد آرٹیکل مختلف اخبارات اور رسائل میں شائع ہو چکے ہیں۔جناب بریگیڈیر گلزار احمد صاحب ٹو گولینڈ کی آزادی کے موقع پر حکومت پاکستان کی طرف سے ہد یہ تہنیت لے کر ایک وفد کی صورت میں پاکستان کی نمائندگی کرنے ٹو گولینڈ تشریف لے گئے تھے۔موصوف نے اپنے دورے کے دوران جو کچھ دیکھا اس کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :۔جو ملا زم مجھے گورنر ٹو گولینڈ کے ہاں دیا گیا اس نے مجھے نماز پڑھتے دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا جب میں نے کہا کہ سام تم نماز کو کیا جانو؟ تو اس نے مسکرا کر کہا ماستامے مسلم کہ میں جناب مسلمان ہوں میں نے کہا کہ لیکن تمہارا نام تو سام یعنی عیسائی ہے۔کہنے لگا۔Sir all men go back take Christian name بریگیڈئیر گزار احمد صاحب نے کہا کہ دوسرے ملکوں میں ہم سن چکے ہیں کہ مشن سکولوں میں