تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 549 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 549

تاریخ احمدیت۔جلد 24 527 سال 1968ء جات میں قرار دیا گیا تھا کہ احمدی مسلمانوں کا فرقہ نہیں ہے۔ہمیں حیرت ہے کہ یہ فیصلہ جات کس طرح امر متعلق ہو سکتے ہیں۔یہ فیصلہ جات ماتحت عدالتوں کے ہیں اور زیر دفعہ نمبر ۱۱۳ یکٹ شہادت ۱۸۷۲ء یہ فیصلہ جات غیر متعلق ہیں۔ایسی نظائر کے متعلق جن میں احمدیوں کو مرتد قرار دے کر قتل کیا گیا ہمارے لیے صرف اس قدر کہہ دینا کافی ہے کہ یہ افسوسناک نظائر مذہب کے نام پر ظلم کو ثابت کرتی ہیں۔اور جب تک کہ انسانی معاملات میں کوئی شرافت باقی ہے انسانی ضمیر ان کے خلاف ہمیشہ بغاوت کرتی رہے گی۔علاوہ از میں یہ مثالیں حقیقی اسلام کے ارشادات و احکام کے قطعی منافی ہیں جیسا کہ قرآن مجید کی دوسری سورۃ کی آیت نمبر ۲۵۶ سے ظاہر ہے جس میں انسانی ضمیر کی آزادی کے تحفظ کے متعلق واضح حکم دیا گیا ہے۔جس کا ترجمہ یہ ہے: ”دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر روا نہیں“ فکر و ضمیر کی آزادی کا تحفظ اس سے زیادہ واضح الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا تھا۔فیصلہ کے خلاف نامناسب مظاہرہ 57 ہائیکورٹ مغربی پاکستان کے اس فیصلے پر احراری حلقوں میں زبردست احتجاج کیا گیا۔بلکہ چنیوٹ میں شرمناک مظاہرہ ہوا اور اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے۔اخبار المنبر (۱۱اراکتو بر ۱۹۶۸ء) نے اس فیصلہ کے ایک حصہ کو نقل کر کے علماء وقت کو اکسایا کہ وہ انفرادی اور اجتماعی حیثیتوں سے اس پر غور کریں اور اپنے فرائض سے عہدہ برآ ہوں۔جس پر راولپنڈی کے ایک دردمند پاکستانی نے ہوم سیکرٹری مغربی پاکستان کی خدمت میں حسب ذیل مکتوب مفتوح لکھا:۔جناب مدیر محترم۔سلام مسنون ! پچھلے دنوں مجھے ایک کاروباری غرض سے سرگودھا سے چالیس میل دور لائکپور کی جانب چنیوٹ کے شہر میں جانے کا اتفاق ہوا۔بدقسمتی سے قصبے میں ہمارے ورود کا دن وہی تھا جسے چند تخریب کاروں نے سالمیت وطن کے خلاف تخریبی حرکات کے الزام میں ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت ایک گرفتار کی رہائی کے لئے احتجاجی مظاہرہ کرنے کی غرض سے منتخب کیا تھا۔اور ایک بڑا ہی اشتعال انگیز قسم کا جلوس نکالا گیا تھا۔اور جس دن شہر کے ایک حصے سے غنڈہ پن، ماؤں بہنوں کی گالیوں اور پتھراؤ کے بل پر بالجبر جزوی ہڑتال کرائی گئی تھی۔اس جلوس کی قیادت ( جیسا کہ بعد میں معلوم ہوا ) پولیس کے منظور نظر ڈاڑھی دار ٹاؤٹ نے کی تھی۔