تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 544 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 544

تاریخ احمدیت۔جلد 24 522 سال 1968ء ان کا پر چہ سن لیا جائے۔لیکن پادری صاحب نے شور سے آسمان سر پر اٹھا لیا۔جس پر غیر مسلم صاحب صدر کو مجبور جلسه برخاست کرنا پڑا۔نجی میں یہ اپنی طرز کا پہلا مباحثہ تھا، جس کے نتیجے میں ملک کے طول و عرض میں جماعت احمدیہ کا چرچا ہوا۔اور ہر طبقہ کے لوگوں نے اس میں بڑی دلچسپی کا اظہار کیا۔مولانا نورالحق صاحب انور پر چہ سناتے وقت جب نہایت خوش الحانی سے قرآن شریف کی تلاوت کرتے تو حاضرین پر خدا کے پاک کلام کا ایک عجیب اثر پڑتا۔کلام اللہ کی تلاوت کے وقت غیر مسلم تک بھی بے اختیار جھوم رہے ہوتے تھے۔یہ مباحثہ نبی کے احمدیوں کے اضافہ علم اور ازدیاد ایمان کا باعث بنا۔احباب کو اس کے دوران کثرت سے دعائیں کرنے کا موقع ملا۔اور نہ صرف مولانا نورالحق صاحب انور بلکہ سید صابرحسین صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ صوا اور سید احمد حسین صاحب مخلص نو مبائع اور بعض دیگر مخلصین جماعت کو مناظرہ کی کامیابی کے متعلق قبل از وقت مبشر خوا ہیں آئیں۔ہنری مارٹن انسٹیٹیوٹ دہلی میں ایک تقریر ۱۸ اپریل تا ۲۶ را پریل ۱۹۶۸ء ہنری مارٹن انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام ایک سیمینار۔Y۔M۔C۔A ٹورسٹ ہوٹل نئی دہلی میں منعقد ہوا۔جس میں متعد د عیسائی سکالرز اور پروفیسرز کے علاوہ مولوی بشیر احمد صاحب فاضل انچارج احمد یہ مشن دہلی نے بھی پر از معلومات لیکچر دیا۔جس کا عنوان تھا 'تحریک احمدیت آپ نے اپنے لیکچر میں پہلے احمدیت کا علمی و عملی اعتبار سے تعارف پیش کیا۔بعد ازاں اس کی چھ عظیم الشان خصوصیات بیان فرما ئیں۔لیکچر ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔جس کے بعد نہایت ہی خوشگوار ماحول میں پون گھنٹہ تک سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہا۔ہفت روزہ چٹان پر پابندی حکومت مغربی پاکستان نے ۲۵ / اپریل ۱۹۶۸ء کو جماعت احمدیہ کے شدید مخالف شورش کا شمیری صاحب کے ہفت روزہ 'چٹان'' (لاہور) کا ڈیکلریشن منسوخ اور پریس اور چٹان کا شمارہ ۲۲ اپریل ۱۹۶۸ء ضبط کر لیا۔یہ اقدامات ۲۲ / اپریل کے چٹان میں ایک شذرہ بعنوان "الحمد للہ شائع کرنے کی وجہ سے کئے گئے۔اس موقعہ پر حکومت نے جو اعلامیہ شائع کیا اس کے الفاظ یہ ہیں:۔