تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 545 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 545

تاریخ احمدیت۔جلد 24 523 سال 1968ء حکومت فرقہ وارانہ اور طبقاتی ہم آہنگی برقرار رکھنے کو انتہائی اہمیت دیتی ہے تا کہ کسی بھی عقیدے کے مدرسہ فکر کو کسی دوسرے فرقہ سے خوف واند پیشہ لاحق نہ ہو۔نتیجتا حکومت برسوں سے اس امر کو یقینی بنانے کے لئے مختلف اقدامات کر رہی ہے کہ کوئی شخص امن عامہ اور کسی فرقہ کی آزادی عقیدہ میں تقریر یا تحریر کے ذریعہ خلل نہ ڈالے۔گذشتہ سال دفاعی قوانین کے تحت ایک حکم جاری کیا گیا تھا جس کے ذریعہ ے جریدوں پر کوئی ایسی چیز شائع نہ کرنے کی پابندی عائد کی گئی تھی جس سے فرقہ وارانہ اختلافات بھڑک اُٹھیں۔ہفتہ وار چٹان لاہور بھی ان جریدوں میں شامل تھا۔لیکن حکومت کو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس پابندی کی مدت جو نہی ختم ہوئی ہفتہ وار چٹان نے اپنا پرانا لب ولہجہ اختیار کر لیا۔اور ایک مخصوص فرقے اور اس کے عقائد کے خلاف نہایت تلخ انداز میں مستقل طور پر لکھنا شروع کر دیا۔یکم اپریل ۱۹۶۸ء کو حکومت نے دفاعی قوانین کی دفعہ ۵۲ کے تحت تمام چھاپہ خانوں اور ناشرین اخبارات کو ایک حکم جاری کیا جس کے ذریعہ ان پر کوئی ایسا مواد جس میں اسلام کے کسی فرقہ کی تاریخ ، عقائد، پیشگوئیوں اور الہامات پر اعتراضات کئے گئے ہوں یا کوئی ایسا مواد جس سے مختلف فرقوں کے درمیان دشمنی کے جذبات بھڑک سکتے ہوں یا بدظنی اور نفرت پیدا ہوسکتی ہو، شائع نہ کرنے کی پابندی عائد کی گئی تھی۔54۔مقدمہ چٹان اور فیصلہ ہائیکورٹ مغربی پاکستان وو 66 چٹان پر اس پابندی کے خلاف آغا شورش کا شمیری نے مغربی پاکستان کی ہائیکورٹ میں مقدمہ کر دیا۔یکم جولائی سے ۸ جولائی ۱۹۶۸ء تک پنجاب ہائیکورٹ کے ایک سپیشل بینچ نے جو جسٹس محمد گل اور جسٹس کرم الہی چوہان پر مشتمل تھا، چٹان کیس کی سماعت کی۔کیس میں بنیادی نکتہ یہ تھا کہ آیا احمدی اسلام کا ایک فرقہ ہیں یا نہیں؟ درخواست دہندگان آغا شورش صاحب کا شمیری اور خواجہ صادق صاحب کا شمیری کے وکلاء کو اس بنیادی نکتہ کی تیاری کرانے میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے بھر پور حصہ لیا۔اور اس غرض کے لئے مولوی محمد علی صاحب جالندھری مع مولوی محمد حیات عرف فاتح قادیان ، مولوی عبدالرحیم اشعر اور مولوی نور الحق صاحب ملتان سے لاہور آئے اور دن رات ایک کر کے مواد تیار کیا۔جسے درخواست دہندگان کے وکلاء صاحبان کی معرفت عدالت عالیہ میں پیش کیا گیا۔جماعت کے ایک اور مخالف رسالہ لولاک کے مطابق سماعت کے آخری دو دن ۸،۵ جولائی کو ایڈووکیٹ جنرل راجہ سید اکبر اور اٹارنی جنرل شیخ غیاث الدین نے صوبائی اور مرکزی حکومتوں کی