تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 541
تاریخ احمدیت۔جلد 24 519 سال 1968ء کے ہال میں ہی یہ پرچے حاضرین کو، جن کی تعداد ایک سو تک محدود کر دی گئی تھی سنا دئیے جاتے۔شرائط کے مطابق دونوں مناظرین کو کسی مددگار کے رکھنے کی اجازت نہ تھی۔بوقت تحریر مباحثہ صرف فریقین کی طرف سے نگران مقرر تھا۔اہلِ اسلام کی طرف سے جملہ ایام کے لئے خاکسار شیخ عبدالواحد فاضل نگران رہا۔عیسائیوں کی طرف سے گو بیشتر وقت پادری سحر دل جونا گپور ہندوستان میں چار پانچ سال رہ چکے ہیں اور اردو پر عبور رکھتے ہیں اور بڑی مرنجان مرنج طبیعت کے مالک ہیں ، بطور نگران رہے۔ان کی مصروفیات کے باعث بعض دوسرے عیسائی حضرات بھی اس ڈیوٹی کو سرانجام دیتے رہے۔مئی کی شام کو پہلے دن کے مباحثہ کی تحریر بخیر و خوبی ختم ہوئی۔موضوع مباحثہ تھے نمبر۔توحید نمبر ۲۔بائبل کا الہام الہی ہونا۔پادری عبدالحق صاحب نے توحید کے مضمون میں حسب معمول اپنی ساحرانہ فریب کاری سے کام لیا اور اپنی منطقیانہ ادق اصطلاحوں کی بھرمار سے حاضرین کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ گویا وہ بہت بڑے فلاسفر اور علامہ دہر ہیں۔گو حاضرین ان کی باتوں کو ذرہ بھی نہ سمجھتے تھے لیکن کسی حد تک ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پادری صاحب کا سحر سامری ناواقف پبلک پر چھا رہا ہے۔ہمارے مناظر نے بائبل سے یہ پیش کیا کہ جس حکمت و فلسفہ پر تم اتنا ناز کرتے ہوا سے تو انجیل میں بیوقوفی، چالا کی، باطل خیالات اور لا حاصل فریب اور دنیوی ابتدائی باتیں کہا گیا ہے (عہد نامہ جدید کی کتب اور کلسیوں) تاہم اُس روز بعض پادری صاحب کی چالا کی کا کسی حد تک شکار معلوم ہوتے تھے لیکن دوسرے دن اللہ تعالیٰ نے اس پر فریب جادو کو محض اپنے فضل سے دھوئیں کی طرح اڑا دیا۔ے مئی کے مباحثہ کے لئے دو مضمون مقرر تھے نمبرا کیا مسیح ناصری الہ مجسم ہے۔نمبر ۲ کیا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام مسیح موعود ہیں؟ چونکہ معلوم ہوتا ہے پادری صاحب کی کاپیوں میں محفوظ شدہ منطقیانہ نوٹ ختم ہو گئے تھے اور کوئی خاص ٹھوس بات کرنے کی بجائے ادھر اُدھر ہاتھ پاؤں مارنے لگے۔گو بوقت تحریر بھی ان کا حال دیکھنے والا تھا۔جبکہ بلا مبالغہ ان کو ہوش نہ تھی کہ وہ کیا لکھ رہے اور کس طرح لکھ رہے ہیں۔مگر شام کے اجلاس میں پرچے سناتے ہوئے تو نظارہ قابل دید تھا۔پادری صاحب کے واسطے اپنے ہاتھوں کا لکھا بھی پڑھنا مشکل تھا۔وہ شکستہ دل کھڑے ہوئے ، اُن کی زبان لڑکھڑاتی اور آواز لرزتی تھی۔یہ مباحثہ بفضل خدا ایک خاص کامیابی اور فتح کا دن ہمارے واسطے لایا۔اس کی ایک خاص الخاص خصوصیت یہ تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعوی حضور کے اپنے ہی مبارک الفاظ میں پیش کرنے