تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 535
تاریخ احمدیت۔جلد 24 513 سال 1968ء میں آپ سب دوستوں کی خدمت میں یہ عرض کرتا ہوں کہ:۔وہ خدا جس کے ہاتھ میں نجات اور جس کی رضا میں انسان کی دائمی خوشحالی ہے۔وہ قرآن کی اتباع کے بغیر ہرگز نہیں مل سکتا۔پس قرآن کریم کا پڑھنا اور اس کا سیکھنا اور اس پر عمل کرنا ہمارے لئے از حد ضروری ہے۔ہمیں چاہیئے کہ اپنی کوشش، اپنی جدوجہد اور مجاہدات کو کمال تک پہنچائیں۔اور جو منصو بہ قرآن کریم کو سیکھنے سکھانے کا جماعت میں جاری کیا گیا ہے۔اس سے غفلت نہ برتیں۔فقط والسلام مرزا ناصر احمد خلیفة المسیح الثالث ۱۷ مارچ ۱۹۶۸ء آرچ بشپ آف کنٹر بری اور رومن کیتھولک آرچ بشپ ویسٹ منسٹر کو 49 روحانی مقابلہ کی دعوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلام کے سوا تمام دیگر مذاہب کے پیروؤں کو دعوت دی تھی کہ وہ آپ کے مقابلہ میں کسی ایک امر کے بارہ میں دعا کریں تا دنیا پر آشکار ہو کہ خدا کس کی دعا سنتا ہے اور یہ کہ اسلام اور دیگر مذاہب میں سے وہ کس کے ساتھ ہے لیکن کسی کو آپ کی یہ دعوت قبول کرنے کی جرات نہ ہوئی۔یہ دعوت اُس وقت سے قائم چلی آرہی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلفاء اسے دنیاکےسامنے پیش کرتے چلے آرہے ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اسے پورے شدومد کے ساتھ پھر دُہرایا۔چنانچہ آپ کی زیر ہدایت اپریل ۱۹۶۸ء میں امام مسجد لندن مکرم بشیر احمد خان رفیق صاحب نے انگلستان کے دولاٹ پادریوں یعنی آرچ بشپ آف کنٹر بری اور رومن کیتھولک آرچ بشپ ویسٹ منسٹر کو ایک خط لکھ کر انہیں قبولیت دعا کا نشان دکھانے کے تعلق میں مقابلہ کی دعوت دی۔اس خط کے جواب میں ہر دولاٹ پادری صاحبان کی طرف سے جو خطوط موصول ہوئے وہ خود اس امر کا بین ثبوت ہیں کہ مروجہ عیسائیت ایک زندہ مذہب نہیں ہے کیونکہ وہ زندگی کے آثار سے عاری ہے۔جناب بشیر احمد خان صاحب رفیق نے یہ دعوت ایک انگریزی مکتوب کے ذریعے دی۔جس کا ترجمہ مع اس کے جواب کے درج ذیل کیا جاتا ہے:۔