تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 530
تاریخ احمدیت۔جلد 24 وو 508 سال 1968ء بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم مجھے یہ بیان کرتے ہوئے قلبی مسرت ہوئی ہے کہ مجلس خدام الاحمدیہ ملتان کے اراکین نے کمال تندہی اور محنت سے میرے حلقہ بنیادی جمہوریت میں صفائی کی مہم کو چلایا۔تعلیم یافتہ نو جوانوں کو خصوصاً نشتر میڈیکل کالج کے پڑھے لکھے باشعور طلباء کو کام کرتے دیکھ کر گونہ مسرت ہوئی۔اگر نو جوانوں کی دیگر انجمنیں بھی اسی طرح کام شروع کر دیں تو بیشتر معاشرتی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔میں اپنی طرف سے اور دیگر اہل محلہ کی طرف سے مجلس کا مشکور ہوں“۔خلافت ثالثہ کے عہد مبارک کی تیسری مجلس مشاورت خلافت ثالثہ کے نئے مبارک دور کی تیسری مجلس مشاورت ایوان محمو در بوہ میں ۷،۶،۵ ا پریل ۱۹۶۸ء کو منعقد ہوئی۔جس میں مغربی اور مشرقی پاکستان کی جماعتہائے احمدیہ، صدرانجمن احمدیہ، تحریک جدید، وقف جدید فضل عمر فاؤنڈیشن اور ذیلی تنظیموں کے۴۶۲ نمائندگان شریک ہوئے۔نیز ۶۵۰ مقامی زائرین اور ۳۱۸ مہمانوں نے بھی شمولیت کی سعادت حاصل کی۔مشاورت کے ایجنڈا پر غور کرنے کے لئے حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے نمائندگان کے مشورے سے حسب ذیل تین سب کمیٹیوں کی تشکیل منظور فرمائی۔(۱) سب کمیٹی برائے تجاویز متعلقہ صدرانجمن احمدیہ۔تعداد اراکین ۴۷۔صدر: جناب مرزا عبد الحق صاحب۔سیکرٹری نمبر 1: میاں عبد الحق صاحب رامہ ناظر بیت المال ( آمد )۔سیکرٹری نمبر۲ : مولانا ابوالعطاء صاحب نائب ناظر اصلاح وارشاد۔(۲) سب کمیٹی برائے تجاویز متعلقہ تحریک جدید - تعداد اراکین : ۳۵ صدر: شیخ محمود الحسن صاحب آف مشرقی پاکستان سیکرٹری: حافظ عبدالسلام صاحب وکیل المال (ثانی) تحریک جدید۔(۳) سب کمیٹی برائے تجاویز متعلقه وقف جدید - تعداد اراکین :۲۲ صدر : مولوی محمد صاحب بی اے امیر جماعتہائے احمدیہ مشرقی پاکستان۔سیکرٹری: (حضرت) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب۔سب کمیٹیوں نے پہلے روز رات گئے تک جملہ تجاویز پر غور کر کے اپنی سفارشات مرتب کیں۔اور