تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 36 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 36

تاریخ احمدیت۔جلد 24 36 سال 1967ء پھر ۱۹۲۲ء کی شوریٰ ہی میں آپ فرماتے ہیں کہ:۔یہ نہیں کہ ووٹ لئے جائیں اور ان پر فیصلہ کیا جائے بلکہ جیسا کہ اسلامی طریق ہے کہ مختلف خیالات معلوم کئے جائیں اور مختلف تجاویز کے پہلو معلوم ہوں تا کہ ان سے جو مفید باتیں معلوم ہوں ، وہ اختیار کر لیں۔۔۔۔مشورہ کی غرض ووٹ لینے نہیں بلکہ مفید تجاویز معلوم کرنا ہے پھر چاہے تھوڑے لوگوں کی اور چاہے ایک ہی کی بات مانی جائے۔پس صحابہ کا یہ طریق تھا اور یہی قرآن سے معلوم ہوتا ہے اور عارف کے لئے یہ کافی ہے۔“ 29 پھر آپ فرماتے ہیں:۔سلسلہ احمدیہ کے تمام افراد کے لئے قیام وحدت اور اجتماع کلمہ اور ملی فرائض کی بجا آوری کے لئے ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کرنا ضروری ہے اور اس بیعت کے بغیر کوئی شخص جماعت احمدیہ میں شامل نہیں رہ سکتا۔یہ شخص جس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے مطابق احکام قرآن خلیفہ یا مطابق سنتِ صحابہ (خلیفہ اسیح) کہلائے گا اور تمام اجتماعی امور جماعت اس کی وساطت اور اس کی ہدایت اور اس کی راہنمائی کے ماتحت طے پائیں گے اور اس کے اختیارات کو محدود کرنے والی چیزیں صرف خدا تعالیٰ کی مرضی اور اس کا کلام اور اس کا فعل اور سنت رسول کریم ﷺ اور حدیث جو مطابق قرآن ہو اور وحی مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور کتب مسیح موعود اور اس کی اپنی عقل ہوگی۔“ پھر آپ فرماتے ہیں:۔مشورہ لینے کا حق اسلام نے نبی کو اور اس کی نیابت میں خلیفہ کو دیا ہے مگر کوئی یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ نبی یا خلیفہ کے سامنے تجاویز پیش کرنے کا حق دوسروں کے لئے رکھا گیا ہے کوئی ایسی مثال نہیں مل سکتی کہ کسی نے اپنی طرف سے رسول کریم ﷺ کے سامنے تجویز پیش کی ہو اور اسے اپنا حق سمجھا ہو۔“ پھر اسی شوری میں آپ فرماتے ہیں:۔30 66 خلافت کوئی سیاسی نظام نہیں ( ہماری کمیٹی نے بھی یہی کیا ہے کہ جمہوریت