تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 508
تاریخ احمدیت۔جلد 24 486 سال 1968ء والد بزرگوار حضرت چوہدری نصر اللہ خاں صاحب کے قبول احمدیت کے واقعات دلنشیں و ایمان افروز انداز میں بیان فرمائے اور آخر میں اسلام اور احمدیت کی سر بلندی کے لئے دعا کرائی۔تقریباً پون گھنٹہ کی اس ایمان افروز نشست کے بعد آپ آٹھ بجے شب سرکاری مہمان خانہ تشریف لے گئے۔جہاں صدر حکومت جناب عبدالحمید خان صاحب کی طرف سے آپ کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام تھا۔اگلے روز یعنی ۳ مارچ کو نو بجے صبح حضرت چوہدری صاحب بذریعہ کار واپس راولپنڈی تشریف لے گئے۔جہاں سے بذریعہ ہوائی جہاز اسی روز شام کو لاہور روانہ ہو گئے۔مولوی عطاء الکریم صاحب شاہد مربی سلسلہ عالیہ احمدیہ مظفر آباد نے بھی مظفر آباد سے راولپنڈی تک آپ کی مشایعت کی اور ہوائی اڈہ پر لاہور کے لئے رخصت کیا۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی مظفر آباد میں تشریف آوری اہل مظفر آباد کے لئے ایک تاریخی یادگار کی حیثیت رکھتی ہے۔مظفر آباد کے عوام حضرت چوہدری صاحب جیسے عظیم انسان جنہوں نے کشمیر اور اہل کشمیر کی اس قدر خدمت کی ہے ایک جھلک دیکھ لینے کو اپنے لئے سعادت خیال کرتے ہیں۔اسی طرح مقامی احباب جماعت کی مسرت کی بھی کوئی انتہا نہ تھی کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک جلیل القدر صحابی ، سلسلہ احمدیہ کے ایک عظیم فدائی اور ملک وملت کے ایک عظیم رہنما کی صحبت اور گفتگو سے فائدہ اٹھایا۔35 ربوہ میں عید الاضحیٰ کی نہایت بابرکت تقریب مورخہ ۱۰ ذی الحج ۱۳۴۷ھ مطابق ۱۰ مارچ ۱۹۶۸ء بروز اتوار ربوہ میں عیدالاضحی کی مبارک تقریب اسلامی شعار کے مطابق اہتمام سے منائی گئی۔نماز عید کا وقت ۸ بجے مقرر کیا گیا تھا۔اس روز اچا نک طبیعت ناساز ہونے کے باعث حضرت خلیفہ المسیح الثالث نماز عید نہ پڑھا سکے۔علالت طبع کے باوجود حضور انور بر وقت مسجد میں تو تشریف لے آئے لیکن حضور نے محترم مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل کو نماز عید پڑھانے اور خطبہ دینے کا ارشاد فرمایا۔چنانچہ حضورانور کے ارشاد کی تعمیل میں نماز عید محترم مولانا ابوالعطاء صاحب نے پڑھائی۔نماز کے بعد محترم مولانا صاحب موصوف نے عید الاضحی کا خطبہ پڑھا۔خطبہ کے بعد محترم مولانا ابوالعطاء صاحب نے حضور انور کی خدمت میں دعا کرانے کی