تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 509 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 509

تاریخ احمدیت۔جلد 24 487 سال 1968ء درخواست کی۔چنانچہ حضور نے دعا کرائی جس میں سب احباب شریک ہوئے۔پاکستان ٹائمنٹر میں ماریشس کے احمدیوں کا ذکر 36۔روز نامہ پاکستان ٹائمنر (لا ہور ) ۱۲ مارچ ۱۹۶۸ء میں ماریشس کی آبادی کے تعارف کے سلسلہ میں احمدیوں کا بھی ذکر کیا گیا تھا چنانچہ اخبار لکھتا ہے کہ:۔’یہاں تقریباً ۱۱،۰۰۰، مسلمان آباد ہیں (سنی حنفی ہیں ہزار، شافعی ایک ہزار دوسو، احمدی ایک ہزار، شیعہ تین سو اور تقریباً ۸۸،۵۰۰ مسلمان جو کسی خاص مکتب فکر سے تعلق نہیں رکھتے )۔اوّلین مسلمان صناع تقریباً ۱۷۴۰ء میں ماریشس پہنچے۔اگر چہ ان کی تہذیب، زبان اور روایات فرانسیسیوں سے متاثر ہوئیں مگر انہوں نے اپنے مذہبی عقائد کو محفوظ و مصئون رکھا۔ماریشس کی پہلی مسجد ۱۸۰۵ء میں مسلمانوں نے تعمیر کی۔دوسرے مسلمان جزیرہ پر انگریزوں کے بعد یہاں وارد ہوئے۔ہندوستان سے مزدور طبقہ کی آمد کے نتیجہ میں بہت سے مسلمان یہاں پہنچے جو آج مختلف پیشوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ماریشس کا پہلا جشن آزادی اور جماعت احمد یہ ماریشس بحر ہند میں متعدد چھوٹے چھوٹے جزیروں پر مشتمل ایک ملک ہے۔جس پر ۱۷۱۳ء میں فرانس نے ملکیت کا دعویٰ کیا۔اور اس کا نام جزیرہ فرانس رکھا۔۱۸۱۰ء میں اسے انگریزوں نے فتح کیا اور ۱۲ مارچ ۱۹۶۸ء کو اسے مکمل طور پر آزاد کر دیا۔جماعت احمدیہ ماریشس نے اپنے ملک کا پہلا جشن آزادی کس شان سے منایا اس کی تفصیلات مولوی محمد اسمعیل صاحب منیر مجاہد ماریشس نے تحریر فرمائی تھیں جس کے مطابق آپ تحریر فرماتے ہیں کہ ۱۲ مارچ ماریشس کا یوم آزادی تھا مگر آزادی کی تقریبات ۹ مارچ سے ہی شروع ہو گئی تھیں۔۸ مارچ کو بیرونی ملکوں سے پریس کے نمائندگان کافی تعداد میں پہنچ گئے تھے۔چنانچہ وزیر اطلاعات نے پریس کانفرنس بلائی جس میں بیرونی اور ملکی اخبارات کے نمائندے شامل تھے۔احمد یہ مشن کے اخبار Le Message کے نمائندے بھی موجود تھے۔ایک اور احمدی دوست بھی ایک اخبار Le Progress Islamique کئی سال سے نکال رہے ہیں ان کا احمدی نمائندہ بھی موجود تھا۔حکومت نے پریس کو جملہ سہولتیں بہم پہنچائیں جس کی وجہ