تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 507 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 507

تاریخ احمدیت۔جلد 24 485 سال 1968ء پُر اعتما در ہیں انجام کا رفتح ان ہی کی ہوگی۔آپ نے کہا بھارت اپنی عسکری قوت میں چاہے جتنا اضافہ کر لے۔ریاست جموں و کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق مقدر ہو چکا ہے۔صدر آزادکشمیر نے پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے کی حیثیت میں کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی میں چوہدری محمد ظفر اللہ خاں کے کردار کی ستائش کی۔اجلاس میں آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے جوں، بار ایسوسی ایشن کے ارکان اور اساتذہ کے علاوہ متعددافراد نے شرکت کی۔34 حضرت چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کی احمد یہ نماز سنٹر پر آمد جناب مولوی عطاء الکریم صاحب شاہد مربی سلسلہ عالیہ احمدیہ کا بیان ہے کہ اپنی تقریر کے بعد حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب سرکاری مہمان خانہ پہنچے۔جہاں سے تیاری کے بعد طے شدہ پروگرام کے مطابق آپ نے مکرم راجہ عطاء اللہ خاں صاحب امیر جماعتہائے احمد یہ آزاد کشمیر کے ہاں نماز مغرب و عشاء کی باجماعت ادا ئیگی اور احباب جماعت سے ملاقات کی غرض سے تشریف لے جانا تھا۔اس مرحلہ پر ضلع آزاد کشمیر کے ڈپٹی کمشنر اور پولیس سربراہ نے مجھے بلا کر علیحدگی میں کہا کہ شہر میں بہت شور وشر ہے اور مخالفانہ تقریریں مساجد میں ہو رہی ہیں۔کہیں ایسا نہ ہو کہ جب چوہدری صاحب شہر جائیں تو انہیں کسی قسم کا نقصان پہنچے۔اس لئے آپ چوہدری صاحب سے اس پروگرام کو منسوخ کرنے کیلئے عرض کریں۔اپنے انقباض کے باوجود افسران کے اصرار پر خاکسار نے ان کی درخواست حضرت چوہدری صاحب کی خدمت میں پہنچادی تو آپ نے بڑے وقار تحمل اور خدا تعالیٰ پر توکل کے ساتھ فرمایا میں اپنے احباب سے وعدہ کر چکا ہوں اور اب میں لوگوں کے ڈر سے جانے سے نہیں رک سکتا۔بہر حال اس تقریب کے بعد حضرت چوہدری صاحب راجہ عطاء اللہ خاں صاحب امیر جماعتہائے احمدیہ کے گھر واقعہ نیا محلہ تشریف لے گئے۔جہاں آپ نے احباب جماعت کی معیت میں مغرب وعشاء کی نمازیں ادا کیں۔اور پھر احباب جماعت کے درمیان تشریف فرما ہو کر ان کے سوالات کے جوابات دینے کے علاوہ ایمان افروز نصائح فرمائیں۔نیز سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پہلی دفعہ زیارت کے سلسلہ میں بتایا کہ کس طرح ۲ ستمبر ۱۹۰۴ء کو آپ کو پہلی بارلاہور میں مسیح دوراں علیہ السلام کی اولین زیارت کا شرف نصیب ہوا۔اور آپ کے دل پر آپ کی پُر نور اور ارفع اور اعلیٰ خدا داد شخصیت کا گہرا اور پائیدار نقش ہمیشہ کے لئے مثبت ہو گیا۔آپ نے اپنی بزرگ والدہ صاحبہ اور