تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 506
تاریخ احمدیت۔جلد 24 484 سال 1968ء چوہدری صاحب کی اس معرکۃ الآراء تقریر کی خبر مع آپ کی تصویر کے حسب ذیل الفاظ میں شائع کی:۔مقبوضہ کشمیر میں جرائم کا ارتکاب اقوام متحدہ کے منشور پر کلنک کا ٹیکہ اور انسانی ضمیر کے لئے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے“ مظفر آباد ۳ مارچ (اپ) بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے حج چوہدری محمد ظفر اللہ خاں نے کل یہاں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جن جرائم کا مسلسل ارتکاب کیا جا رہا ہے وہ اقوام متحدہ کے منشور پر کلنک کا ٹیکہ اور انسانی ضمیر کے لئے چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔وہ انجمن فکر و دانش کے زیر اہتمام تعلیم یافتہ افراد کے ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔اس تقریب کی صدارت کے فرائض آزاد کشمیر کے صدر مسٹر عبدالحمید خاں نے انجام دیئے۔چوہدری صاحب نے اس یقین کا اظہار کیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر پر اپنی گرفت زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھ سکے گا۔اللہ تعالیٰ کسی ظالم کو ہرگز معاف نہیں کرتا۔یہ اور بات ہے کہ اس کی رسی دراز کر دے۔آپ نے بھارت کے اس دعوی کی تردید و تکذیب کی کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔آپ نے کہا ”بھارتی حکمران یہ بخوبی سمجھتے ہیں کہ ان کا دعویٰ محض جھوٹ ہے۔لیکن وہ اس امید کے سہارے بار بار اس کا اعادہ کر رہے ہیں کہ شاید اسے سچ سمجھ لیا جائے۔چوہدری ظفر اللہ خاں نے بھارت کے اس دعویٰ کا ذکر کیا کہ وقت گذرنے کے ساتھ حالات بدل چکے ہیں۔آپ نے کہا ” اس تاخیر کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے۔اور کسی کو اپنی غلطی سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے۔اگر بحث کی خاطر یہ بھی تسلیم کر لیا جائے کہ جو الزام عائد کیا جاتا ہے۔اس کی ذمہ داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے تو اس سے بھی کام نہیں بنتا اور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دوسروں کی غلطی کا خمیازہ کشمیری کیوں بھگتیں“۔چوہدری صاحب نے ستمبر ۱۹۶۵ء کی پاکستان بھارت جنگ کے بارے میں سلامتی کونسل کی قرار داد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا فرض ہے کہ وہ کونسل کو جنگ کی وجہ کے تصفیہ کے لئے کہیں۔چوہدری صاحب سے دریافت کیا گیا کہ کیا بین الاقوامی عدالت انصاف تنازعہ کشمیر کے تصفیہ میں مفید ثابت ہو سکتی ہے۔اس پر آپ نے کہا اگر چہ اس عدالت میں کوئی سیاسی تنازعہ تصفیہ کے لئے پیش نہیں ہو سکتا۔لیکن اگر طرفین کی باہمی رضامندی سے اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت قبول کردہ ذمہ داری سے انحراف کا تعین مقصود ہو تو یہ معاملہ عدالت میں پیش ہو سکتا ہے“۔صدر آزاد کشمیر مسٹر عبدالحمید خاں نے صدارتی تقریر میں کشمیری حریت پسندوں سے کہا کہ وہ