تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 503
تاریخ احمدیت۔جلد 24 481 سال 1968ء مورخه ۲۱ نومبر ۱۹۶۸ء بعد نماز مغرب مسجد مبارک ربوہ میں مجلس ارشاد کا اجلاس منعقد ہوا۔حضور علالت طبع کے باعث اجلاس میں شرکت کے لئے تشریف نہ لا سکے۔حضور کے ارشاد کی تعمیل میں صدارت کے فرائض محترم مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل نے ادا کئے۔بعد از تلاوت ونظم مکرم چوہدری خالد سیف اللہ صاحب لائل پور مبلغ مشرقی افریقہ مکرم مولوی محمد منور صاحب اور مبلغ نائیجیریا مکرم شیخ نصیر الدین صاحب ایم اے نے علی الترتیب ا۔دنیا کی عمر ۲۔اشاعت اسلام کے ذرائع ۳۔قرآنی پیشگوئی و اذا الصحف نشرت کے موضوعات پر ٹھوس اور پر مغز مقالے پڑھے۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کا اہم خطاب ۲۴ فروری ۱۹۶۸ء کو حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے نو جوانانِ احمدیت سے ایک بصیرت افروز خطاب فرمایا۔جس میں آپ نے خدام الاحمدیہ کو ان کی عظیم ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ اس عظیم بار کو اٹھانے کے لئے ناقابل تسخیر عزم ، ہمت ،استقلال اور فدائیت کی ضرورت ہے۔اگر ہم زندگی کا ہرلمحہ، ہر لحظہ، ہر پیسہ اور جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ نے ہم کو عطا کیا ہے اس کے لئے صرف نہیں کرتے تو یہ امانت میں خیانت ہے۔آپ نے سگریٹ نوشی ، آٹوگراف ، اندھا دھند مغربی تقلید اور دوسری لغویات سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ مومن کو کسی ایسی بات میں اپنا مال، وقت اور قوتیں صرف نہیں کرنی چاہئیں جن میں اثباتی فائدہ نہ ہو۔آج دنیا تیزی کے ساتھ ہلاکت اور بربادی کی طرف جارہی ہے۔کئی مقامات پر آگ لگی ہوئی ہے اور اس سے بھی بڑی آگ کے سامان کئے جارہے ہیں۔جماعت احمدیہ نے یہ بیڑہ اٹھایا ہے کہ دنیا کو اس تباہی اور ہلاکت سے بچائے۔اس صورت میں ہماری ذمہ داریاں بہت بڑھ جاتی ہیں۔حضرت چوہدری صاحب کی تقریر کے بعد صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے دومنٹ تک خدام سے خطاب فرمایا۔آپ نے خدام کو چوہدری صاحب موصوف کی نصائح پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی اور ان کے لئے دعا کی تحریک کی۔حضرت چوہدری صاحب کا یہ خطاب اخبار مشرق (لاہور) نے آپ کی تصویر کے ساتھ حسب ذیل الفاظ میں شائع کیا:۔