تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 492 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 492

تاریخ احمدیت۔جلد 24 470 سال 1968ء ایک غیر احمدی عالم کا اعتراف حق مولا نا محمد یوسف صاحب آف اکوڑہ خٹک پشاور کی ایک تصنیف اعتراضات کا علمی جائزہ جماعت اسلامی کے ایک ادارہ اسلامک پبلیکیشنز لمیٹڈ لاہور نے شائع کی۔دیگر علمی مباحث کے علاوہ مولانا موصوف نے یہ تحقیق بھی کی کہ حضرت عیسی کے رفع جسمانی الی السماء کی بنیا د دوسرے دلائل اور قرائن پر تو رکھی جاسکتی ہے لیکن قرآن سے یہ بات ہرگز ثابت نہیں ہے کہ حضرت مسیح زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں۔مولانا موصوف کے اصل الفاظ ملا حظہ ہوں :۔رہا یہ کہ رفع جسمانی قرآن کریم کی کسی آیت سے مصرح بھی ہے اور قرآن ہی نے یہ تصریح کی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام جسم و روح سمیت آسمانوں پر زندہ اٹھائے گئے ہیں تو اس پر نہ امت کا اجماع ہوا ہے اور نہ اس طرح کی کوئی تصریح قرآن کریم میں کہیں پائی جاتی ہے۔اور نہ آج تک اس کا کوئی قائل معلوم ہوا ہے اجماع اور تو اتر تو در کنار رہا اس طرح کی کوئی تصریح اگر قرآن میں کہیں آئی ہوتی تو لازمی طور پر قرآن میں کوئی آیت بھی ایسی ملتی جس کے الفاظ یہ ہوتے کہ ان الله قد رفع عيسى حيا بجسده العنصري الى السماء اور اس طرح کے الفاظ کی کوئی آیت قرآن کریم میں موجود نہیں ہے نہ آج تک کوئی عالم ایسا معلوم ہوا ہے جس نے یہ کہنے کی جرات کی ہو کہ قرآن کریم میں لفظ جسم وروح کی تصریح کی گئی ہے۔کیونکہ اس طرح جرات کرنے کے معنی صاف یہی ہیں کہ قرآن میں کوئی آیت ایسی بھی ہے جو آج تک پوری امت کو نظر نہیں آئی ہے۔میں حضرت خلیفہ المسیح الثالث سے ایک ترک صحافی کی ملاقار 66 16 مورخه ۳ فروری ۱۹۶۸ ء کو ایک ترک صحافی نے حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی ملاقات کا شرف حاصل کیا۔حضور انور جابہ جانے کے لئے بالکل تیار تھے۔سامان کاروں میں رکھا جا چکا تھا لیکن ترک صحافی کی درخواست ملاقات پہنچتے ہی حضور نے انہیں شرف ملاقات بخشا اور ان کی خواہش پر ان کے ساتھ تصاویر بھی اتروا ئیں۔اس انٹرویو کے وقت مکرم مولانا نذیر احمد صاحب مبشر اور مکرم نسیم سیفی صاحب بھی موجود تھے۔انٹرویو کے دوران حضور انور نے فرمایا کہ اسلام جلد ہی دیگر تمام مذاہب پر غالب آجائے گا۔اس غلبہ کے آثار نمایاں ہونے شروع ہو گئے ہیں۔مسلمانوں کے فرائض کا ذکر فرماتے ہوئے حضور انور نے فرمایا کہ میری طرف سے سب مسلمانوں کو پیغام دے دیا جائے کہ اب