تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 33 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 33

تاریخ احمدیت۔جلد 24 33 سال 1967ء نے یہاں ذکر کیا تھا۔نبی کریم ﷺ کی زندگی پر مجموعی طور پر جب نظر ڈالتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے مشورہ کے سلسلہ میں ایک طریقہ کار نہیں اپنا یا بلکہ اپنی زندگی میں تین طریق سے مشورہ لیتے رہے۔جس کا ذکر ایک مشاورت کے موقعہ پر حضرت مصلح موعود کر چکے ہیں اور وہ ہماری مشاورت کی رپورٹ میں موجود ہے۔ایک طریق آپ کا یہ تھا کہ اگر کوئی اہم مسئلہ ہو اور وہ ایسا ہو کہ اسے ظاہر نہ کیا جا سکتا ہو۔امت مسلمہ کے مفاد کا تقاضہ یہ ہو کہ وہ بات ظاہر نہ کی جائے اور امت مسلمہ کے مفاد کا یہ تقاضہ بھی ہو کہ اس کے متعلق مشورہ کیا جائے تو جن دوستوں کو اپنے متبعین میں سے آپ اہل الرائے سمجھتے اور آپ سمجھتے کہ ان کے ساتھ مشورہ ہونا چاہئے۔آپ ان میں سے ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ بلاتے تھے اور ان سے علیحدہ علیحدہ مشورہ کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کسی کو نہ بتانا۔ایک طریق آپ کا یہ تھا کہ آپ ان لوگوں کو اپنی نظر میں رکھتے تھے جو تقویٰ وطہارت کے اعلیٰ مقام پر ہوتے تھے اور آپ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فراست عطا فرمائی ہے اور صحیح فیصلہ کرنے کی قوت عطا کی ہے۔آپ ان میں سے ۲۵ سے ۳۰ کو اپنے پاس بلا لیتے اور مشورہ کر لیتے تھے اور بعض دفعہ آپ نے سب لوگوں کو بلالیا۔آپ نے مدینہ میں ڈھنڈورا پٹوا دیا اور فرمایا سب دوست جمع ہو جائیں مشورہ لینا ہے۔ایک موقع پر ( تاریخ میں اختلاف ہے اس لئے میں تحقیق کرنے کے بعد ہی صحیح نتیجہ پر پہنچ سکتا ہوں لیکن بہر حال جو مجموعی شکل ہمارے سامنے آتی ہے یہ ہے کہ ) جمعہ کا دن تھا آپ نے صبح سے لے کر جمعہ کے بعد تک مختلف وقتوں میں مشورہ کیا اور وہ اُسی طرح بلا کر آپ نے کیا تھا۔آپ نے مہاجرین سے مشورہ کیا کہ جنگ اُحد کے لئے ) ہمیں مدینہ میں رہ کر لڑنا چاہئے یا مدینہ سے باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کرنا چاہیے۔اس وقت کفار کا لشکر ہم پر حملہ آور ہے۔اگر سارے کے سارے نہیں تو بہت بھاری اکثریت میں مہاجرین کا یہ مشورہ تھا کہ ہمیں مدینہ میں رہ کر لڑائی کرنی چاہئیے۔بزرگ انصار کی بہت بھاری اکثریت کا بھی مشورہ یہ تھا کہ ہمیں مدینہ