تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 445
تاریخ احمدیت۔جلد 24 445 سال 1967ء اس سال کا ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ ہالینڈ کے کثیر الاشاعت روزنامہ ”ڈیلی روٹرڈ م“ نے کھلے بندوں اعتراف کیا کہ عیسائی مشنری کسی جگہ بھی احمدی مبلغین کا مقابلہ نہیں کر سکے اور انہیں ہر جگہ خفت اٹھانی پڑتی ہے۔چنانچہ پاکستان کے اخبار مغربی پاکستان نے ۱۲ مارچ ۱۹۶۷ء کی اشاعت میں لکھا:۔ہالینڈ سے شائع ہونے والے ایک کثیر الاشاعت روزنامہ ”ڈیلی روٹرڈم مر“ اپنی قریبی اشاعت میں رقمطراز ہے کہ یورپ ، ایشیا اور دنیا بھر میں عیسائی مشنری اداروں کو جماعت احمدیہ کے مبلغین کی اعلیٰ تعلیم اور بھر پور نشر و اشاعت کے سامنے کافی خفت اٹھانی پڑ رہی ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ جب سے جماعت احمدیہ کے مبلغین نے ہند و پاکستان سے نکل کر یورپ کا رخ کیا ہے اس وقت سے عیسائی مشنری لوگ ان کا کہیں بھی ڈٹ کر مقابلہ نہیں کر سکے۔اور یہ کتنے دکھ کا مقام ہے کہ بڑے بڑے پادری تک ان کی دعوت مناظرہ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔اخبار آگے چل کر لکھتا ہے کہ جہاں اسلام یا احمدیت کا نام تک لوگوں نے نہیں سنا تھا اور جہاں عیسائی مشنری اپنی مرضی کے عین مطابق کام کرتے تھے۔وہاں اب عیسائیت سے ان کی نفرت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اب وہی لوگ اس کا نام تک سننا گوارا نہیں کرتے۔ڈیلی روٹرڈ مر نے لکھا ہے کہ احمدیہ جماعت کے لوگ لاکھوں میل دور سے آکر عیسائیت کا مقابلہ کر رہے ہیں اور وہ لوگ اپنے وطن سے دور اپنے دوست احباب اوراہل وعیال سے دوررہ کر نہایت کٹھن مراحل سے دو چار ہوتے ہوئے بھی اپنے مذہب کا پراپیگنڈہ کرتے ہیں لیکن ہمارے پادری اور مشنری ادارے جنہیں حکومتوں کی سر پرستی تک حاصل ہے وہ اپنے فرائض سے کوتاہی برت رہے ہیں۔اخبار مغربی پاکستان کے ایک شہر ربوہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ مسلمانوں کے ترقی یافتہ گر وہ جماعت احمدیہ کے لئے جنوری کا مہینہ خاص اہمیت کا حامل ہے جبکہ یہ جماعت اپنے نئے امام مرزا ناصر احمد صاحب کی قیادت میں جمع ہوئی ہے تاکہ ساری دنیا میں ایک نئے عزم کے ساتھ اپنی تبلیغ جاری رکھ سکے۔اس کے سالانہ اجتماع پر لاکھوں مسلمان اپنے امام کے خطاب کو سننے کے لئے جمع ہوتے ہیں جن کا کہنا ہے کہ خدا ان سے کلام کرتا ہے۔اس جماعت کی بنیاد موجودہ امام کے دادا نے رکھی تھی جن کا دعویٰ تھا کہ خدا نے۔۔۔خودان سے کلام کیا۔وہ اپنے اس دعوی کے بعد پوری طرح