تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 436
تاریخ احمدیت۔جلد 24 436 سال 1967ء صاحب ساقی نے ٹائپ کر کے نمائندگان کے سامنے پیش کئے۔نمائندگان کے فیصلہ کے مطابق یہ مسودہ جناب زونل انچارج صاحب کو دے دیا گیا تا وہ مرکز میں برائے منظوری ارسال کر دیں۔یہ کانفرنس بہت ہی کامیاب رہی۔جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ لائبیریا کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ چھ ممالک کے مسلمان نمائندگان اس ملک میں جمع ہو کر اسلام کی ترقی کے بارہ میں تجاویز پر غور و فکر کرتے رہے۔بالخصوص اس لئے کہ یہاں کی حکومت عیسائی ہے۔اور عیسائیوں کا اپنار یڈ یوٹیشن ہے۔جہاں سے رات دن عیسائیت کی تبلیغ ہوتی ہے۔یہ پہلا موقع تھا کہ لائبیریا میں اس قدر وسیع پیمانہ پر احمدیت کی تبلیغ ہوئی۔ہزارہا افراد نے ٹیلیویژن پر مبلغین کو دیکھا اور ان کی زبانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام سنا اور جماعت کے ذریعہ کئے گئے کام کی حقیقت کو پہچانا۔جتنے روز کانفرنس جاری رہی لائبیریا کے تمام اخباروں نے تقریباً ہر روز تصاویر کے ساتھ خبریں شائع کیں بلکہ کانفرنس کے بعد اخباری رپورٹر مشن ہاؤس آتے رہے اور مزید معلومات حاصل کرتے رہے۔جماعت احمدیہ لائبیریا کی پہلی سالانہ کانفرنس پانچ نومبر ۱۹۶۷ء کو منعقد ہوئی۔کانفرنس میں احمدی احباب کے علاوہ غیر از جماعت احباب نے بھی شرکت کی۔صدر صاحب کے صدارتی خطبہ کے بعد مکرم وکیل التبشیر صاحب کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔جلسہ کے اختتام پر چار افراد بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہوئے۔ان میں سے ایک اس گاؤں کے امام تھے جہاں یہ کانفرنس منعقد کی گئی تھی۔ماریشس یکم شوال ۱۳۸۶ ہجری مطابق ۱۳ جنوری ۱۹۶۷ء کو بیت دارالسلام میں عید الفطر کی تقریب خاص اہتمام سے منائی گئی۔نماز عید کے بعد احباب نے ظہرانہ میں شرکت کی۔مکرم مولانا محمد اسماعیل منیر مبلغ انچارج کی دعوت پر ریڈیو اور پریس کے نمائندوں اور ٹاؤن کونسل کے متعددممبران نے بھی شرکت کی۔مہمانوں کی خدمت میں لٹریچر پیش کیا گیا۔اسی شام ریڈیو ماریشس نے عید الفطر کے بارے میں مکرم مولوی محمد اسماعیل صاحب منیر کی تقریر نشر کی۔اس سال ۱۸ مارچ ۱۹۶۷ء کو ماریشس میں پہلی بار احمد یہ سپورٹس ڈے منایا گیا۔جو اپنوں اور