تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 27
تاریخ احمدیت۔جلد 24 27 سال 1967ء اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اور مولانا نے فرمایا کہ وہ (نظام) صرف سنی مسلمانوں کے بادشاہ نہیں ہیں بلکہ ان کے زیر حکومت ہر مذہب و ملت اور مختلف فرقوں کے لوگ بستے ہیں۔اور اُن سب کو اپنے مذہبی فرائض کے اپنے اپنے طریقہ سے انجام دینے کی پوری آزادی حاصل ہے۔غالباً ۱۷۔۱۹۱۶ء میں جناب خواجہ کمال الدین صاحب حیدر آباد تشریف لائے تھے۔اُن کی بحیثیت ایک قادیانی مبلغ بڑی شہرت تھی۔اس کے باوجود حکومت کے انتظام کے تحت اُن کی ایک تقریر کا انتظام شہر حیدرآباد کی سب سے بڑی مسجد ، مکہ مسجد میں کیا گیا تھا۔جس میں خود نظام سابع بھی شریک ہوئے تھے۔اس کے چند دنوں بعد لنگر کے سالانہ جلوس میں جبکہ نظام اپنے دور حکومت کے ابتدائی چند سالوں تک اپنے خانوادشاہی اور بعض عمائدین سلطنت کے ساتھ ہاتھی کی سواری پر نکلا کرتے تھے۔خواجہ کمال الدین صاحب کو بھی ایک ہاتھی پر جگہ دی گئی تھی جو ایک بہت بڑا اعزاز تھا۔ان کے بعد لارڈ عمر فاروق ھیڈ لے خواجہ نذیر احمد (خلف خواجہ کمال الدین صاحب) کے ساتھ حیدر آباد آئے تھے۔اور ان کی تقریر بھی حکومت کے زیر اہتمام ٹاؤن ہال میں ہوئی تھی۔اس جلسہ میں خود نظام نے بھی شرکت کی تھی۔اور لنڈن میں مسجد کی تعمیر کے لئے پانچ لاکھ روپیہ کے عطیہ کا اعلان کیا تھا۔یہ وہ زمانہ تھا جبکہ مائعین اور غیر مبائعین کا فرق بہت کم لوگوں کو معلوم تھا۔اور ہر دو فرقوں کے اصحاب کو قادیانی ہی کہا اور سمجھا جاتا تھا۔۱۹۳۲ء میں حضرت سیٹھ عبداللہ بھائی صاحب الہ دین نے اپنی وصیت کے حصہ جائیداد کی رقم کو اپنی زندگی ہی میں ادا کر دینے کے خیال سے شہر حیدر آباد میں ایک ہال تعمیر کروایا۔جو احمد یہ جو بلی ہال کے نام سے موسوم ہے۔بعد تکمیل تعمیر جب اس کا افتتاح حضرت مولا نا عبدالرحیم صاحب نیر کے ہاتھوں عمل میں آیا اور اس کی اطلاع نظام سابع نے مقامی اخبارات میں پڑھی تو جماعت کو اطلاع دیکر (ہاں دیکھنے آئے ) ہال کی دیواروں پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم ، آپ کے دعوئی اور آپ کے بعض اشعار لکھے ہوئے ہیں۔نظام نے ان سب کو شروع سے آخر تک پڑھا۔اور جب وہ اس شعر پر پہنچے۔برتر گمان و وہم سے احمد کی شان ہے جس کا غلام دیکھو مسیح الزمان ہے تو کہا کہ اس شعر میں ”احمد“ اور مسیح کے الفاظ ہیں اور یہ شعر عورتوں کی گیلری کے نیچے لکھا ہوا