تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 431
تاریخ احمدیت۔جلد 24 431 سال 1967ء حوالہ سے دلیل دیئے بغیر ان کو تسلی نہیں ہوتی۔اس لئے سفروں میں قرآن مجید، بائبل اور بعض دیگر کتب کو ساتھ رکھا جاتا رہا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں سے کچھ فاصلہ پر ایک گاؤں میں بہت سے افراد حال ہی میں احمدیت میں داخل ہوئے ہیں وہاں پر نو جوانوں کی اچھی خاصی تعداد ہے ان کو صحیح اسلامی تربیت دینے کے لئے خدام الاحمدیہ کی تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا۔ان کے با قاعدہ ہفتہ وار اجلاس ہوتے ہیں۔تبلیغی کاموں میں حصہ لیتے ہیں۔لائبریری کا قیام بھی عمل میں لایا جارہا ہے۔ان کے اجلاسوں میں دو ہفتہ شرکت کی اور ان کو مناسب ہدایات دیں۔مجلس اطفال کا قیام بھی عمل میں آیا۔اس کے علاوہ نیوا کیمسٹرڈم میں بھی اطفال الاحمدیہ قائم ہے۔ان تنظیموں کے اجلاس با قاعدگی سے ہوتے ہیں۔مشن کی طرف سے مسلم ٹارچ لائٹ“ کے نام سے ایک رسالہ شائع کیا جاتا ہے۔عرصہ زیر رپورٹ میں اس کے تین شمارے شائع ہوئے ایک شمارہ اخبار کی صورت میں شائع کر کے عیدالفطر کے موقع پر وسیع تعداد میں تقسیم کیا گیا۔مرکز اور دیگر مشنوں کی طرف سے موصول ہونے والی کتب، رسائل اور اخبارات بھی کثرت سے تقسیم کئے گئے۔یہ رسائل اور اخبار ملک کی دومشہور لائبریریوں کو باقاعدگی سے بھجوائے جاتے رہے۔ایک لائبریری کو اسلام اور احمدیت پر مشتمل آٹھ کتب کا سیٹ بھی بطور تحفہ دیا گیا۔علاوہ ازیں مشن کی لائبریری سے دوست کتب برابر حاصل کرتے رہے۔چار مرتبہ ہسپتالوں میں جا کر بیمار پرسی کی گئی اور وہاں پر بھی کثرت سے لٹریچر تقسیم کیا گیا۔احمدی احباب نے بڑے اہتمام سے روزے رکھے۔رمضان کے مبارک ماہ میں مشن ہاؤس اور ایک اور گاؤں میں باقاعدہ تراویح ادا کرنے کا انتظام کیا گیا۔مشن میں تو میں خود ہی نماز تراویح پڑھا تا رہا اور گاؤں میں ایک دوست کریم اللہ خان صاحب کو تراویح پڑھانے پر مقرر کیا گیا جو با قاعدہ تقریباً آٹھ میل روزانہ سفر کر کے تراویح پڑھانے جاتے رہے۔روزوں کے اختتام پر دو جگہ عید الفطر کی نماز ادا کرنے کا انتظام کیا گیا۔جارج ٹاؤن میں کھلے میدان میں عید پڑھائی گئی۔کہا جاتا ہے کہ یہ گی آنا میں پہلی عید ہے، جو کھلے میدان میں پڑھائی گئی۔عید کی نماز میں شامل ہونے والے تو احمدی افراد ہی تھے لیکن خطبہ کے وقت بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔عید گاہ سے واپسی پر تحمید و تمجید کرتے ہوئے دوست ایک بڑے بازار کے راستہ واپس آئے۔سالانہ کانفرنس ۲۹ جنوری ۱۹۶۷ء کو منعقد ہوئی۔پریس اور ریڈیو کے ذریعہ پبلک کو اطلاع بہم