تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 425
تاریخ احمدیت۔جلد 24 425 سال 1967ء خدمات سرانجام دی ہیں۔جیسا کہ تعلیمی میدان میں ان کا کام نمایاں ہے۔چنانچہ کماسی میں ایک نہایت ہی شاندار سیکنڈری سکول قائم ہے۔جس میں بغیر کسی قسم کے مذہبی امتیاز کے طلبہ کو داخلہ دیا جاتا ہے۔یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ یہ جماعت دوسرے مذاہب کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ملک کی رُوحانی اور مادی ترقی کے لئے کوشاں ہے۔آپ نے فرمایا کہ اب ہر شخص کو مذہبی طور پر مکمل آزادی حاصل ہے۔اس لئے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ موجودہ حکومت میں آپ مذہبی تبلیغ اور خدائی عبادت کے لحاظ سے پوری طرح آزاد ہیں۔مگر اس کے مقابل مذہبی جماعتوں سے حکومت کو بھی یہی توقع ہے کہ وہ دیانت، انصاف اور خاکساری کی تبلیغ کرتے ہوئے حکومت سے تعاون کی تلقین کریں گے۔کانفرنس کی کارروائی ریڈیو غانا نے نشر کی۔اس کی رپورٹیں اخبار ڈیلی گرافک DAILY) (GRAPHIC اور غانین ٹائمز (GHANIAN TIMES) میں شائع ہوئیں۔74 مجی (جزائر ) مولوی نور الحق صاحب انور سابق مبلغ مشرقی افریقہ ۲ مارچ ۱۹۶۷ء کو ناندی کے ہوائی متعقر پر وارد ہوئے۔جماعت نبی کا ایک جم غفیر مولانا شیخ عبدالواحد کی قیادت میں پیشوائی کو موجود تھا۔آپ فنجی میں وارد ہوتے ہی اشاعت دین میں سرگرم عمل ہو گئے۔آپ نے پہلی ششما ہی میں جو خدمات انجام دیں ان کا خلاصہ انہی کے الفاظ میں درج ذیل کیا جاتا ہے:۔۴ مارچ کو ناندی میں ایک ایمان افروز واقعہ یہ ہوا کہ یہاں پہنچتے ہی ہمارے مخلص احمدی دوست برادرم ڈاکٹر شوکت علی صاحب پرنسپل ناندی کالج مجھے اپنے برادرا کبر ( جواس وقت تک احمدی نہ تھے ) سے ملانے ان کے گھر پر لے گئے۔اس وقت میرے ساتھ برادرم عبدالواحد صاحب اور بعض دوسرے احباب جماعت تھے۔احباب نے رسمی پرسش احوال کے بعد گفتگو کا رُخ تبلیغ کی طرف موڑنا چاہا اور مجھے بھی ترغیب دی کہ میں صاحب خانہ کو تبلیغ کروں۔لیکن جب میں نے ڈاکٹر صاحب کے بھائی کا نام پوچھا اور مجھے بتایا گیا کہ ان کا نام ابراہیم ہے تو میں خاموش ہو گیا۔اور جب موجود الوقت احباب نے خود بھی تبلیغی گفتگو کرنا چاہی تو میں نے ان کو روک دیا۔اس پر دوست بڑے حیران ہوئے کہ نامعلوم یہ کیا چاہتا ہے کہ نہ خود تبلیغ کرتا ہے نہ ہمیں کرنے دیتا ہے جب احباب کی حیرانی کچھ زیادہ ہوگئی تو میں نے انہیں بتایا کہ جب میں مشرقی افریقہ کے علاقہ یوگنڈا میں پہلی مرتبہ گیا تو اس