تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 424
تاریخ احمدیت۔جلد 24 424 سال 1967ء تعلیمی و مذہبی خدمات کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ جماعت احمد یہ اس بارہ میں پہلے ہی کوشش کر رہی ہے۔اور غانا میں ایک خاصی تعداد میں سکول جاری کر کے اس بات کا زندہ ثبوت بہم پہنچا چکی ہے کہ اس جماعت میں کلام اللہ کی اشاعت کا جذبہ نہ صرف موجود ہے بلکہ اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ہر ممکن طریق کو عمل میں لانے کی سعی کر رہی ہے۔یہ جماعت ۱۹۲۱ء میں گولڈ کوسٹ میں قائم ہوئی۔جبکہ حالات بالکل اس کے ناموافق تھے۔مگر آج یہ جماعت اس بات پر فخر محسوس کرنے میں حق بجانب ہے کہ اس کے کافی تعداد میں پاکستانی اور غانین مبلغ گریجویٹ اور غیر گریجویٹ اشاعت اسلام میں مشغول ہیں۔ایک احمد یہ مشنری ٹریننگ کالج قائم ہوا ہے۔احمد یہ سیکنڈری سکول، درجنوں مڈل اور پرائمری سکولز قائم ہیں۔نیز اس کے متبعین ہزاروں کی تعداد میں غانا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیلے ہوئے ہیں۔لہذا میں جماعت کے ممبران کو اس امر کا یقین دلاتا ہوں کہ جب بھی اور جس رنگ میں بھی انہیں ہماری کسی معاملہ میں ضرورت پیش آئے گی تو ہر ممکن طریق سے ان کی مدد کی کوشش کی جائے گی۔لیفٹیننٹ کرنل آر۔جے۔جی۔ڈنڈو نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے لئے یہ نہایت ہی خوشی اور مسرت کا مقام ہے کہ مجھے اس قسم کی مذہبی کا نفرنس میں شرکت کی توفیق مل رہی ہے۔جس میں آپ لوگ محض خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے لئے حاضر ہوئے ہیں۔جماعت احمدیہ کی مذہبی اور سماجی مساعی کا ذکر کرتے ہوئے کرنل صاحب موصوف نے فرمایا کہ اس جماعت کے ممبران جس رنگ میں تبلیغی کام سرانجام دے رہے ہیں وہ قابل قدر ہیں اور مجھے توقع ہے کہ وہ اپنے اس کام کو جاری رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک خداتعالی کی آواز پہنچانے کی کوشش کریں گے تا کہ وہ بھی آپ کی طرح نورالہی سے حصہ پاسکیں۔وہ زمانہ گذر گیا جبکہ مذہب کو طاقت اور تلوار کے ذریعہ پھیلایا جاتا تھا۔اب مذہبی آزادی کا زمانہ ہے۔ور ہر شخص کو اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے کی اجازت ہے۔اور یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے مختلف مذاہب میں ایک پر امن فضا پیدا ہو سکتی ہے۔اور باہم مل کر کام کرنے کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے۔جماعت کی تعلیمی مساعی کا ذکر کرتے ہوئے کرنل صاحب موصوف نے فرمایا کہ میرے لئے یہ بات نہایت ہی خوشی کا موجب ہے کہ جماعت احمدیہ کا کام صرف تبلیغ اور لوگوں کو مذہبی طور پر راہ نجات دکھانے تک ہی محدود نہیں بلکہ ملک کے سوشل اور اقتصادی امور میں بھی اس جماعت نے گرانقدر