تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 421 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 421

تاریخ احمدیت۔جلد 24 421 سال 1967ء احمدیت پر ایک مفصل مقالہ بعنوان AHMADIYYAH: A STUDY IN" CONTEMPORARY ISLAM OF THE WEST AFRICAN "COAST لکھ چکے ہیں۔جس پر انہیں آکسفورڈ یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی۔یہ مقالہ ۱۹۶۳ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی ہی نے شائع کیا۔) ہیں۔جو تقریباً چھ سال بعد سیرالیون آئے تھے۔مولوی بشارت احمد صاحب بشیر نے انہیں ایک روز ظہرانے پر بلایا۔ان کی توجہ کتاب کے بعض ایسے حصوں کی طرف مبذول کرائی گئی۔جو حقیقت پر مبنی نہ تھے۔گفتگو کے تسلسل میں مولوی بشارت احمد صاحب نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ مغربی افریقہ میں جماعت احمدیہ کا مستقبل مخدوش اور غیر یقینی ہے۔اب آپ اتنی مدت بعد تشریف لائے ہیں۔جماعت کے بارہ میں آپ کے کیا تاثرات ہیں۔اس پر آپ بے اختیار بولے کہ اس میں شک نہیں کہ جماعت نے اس عرصہ میں بہت بڑی اور نمایاں ترقی کی ہے۔جو فی الحقیقت میری توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔ڈاکٹر فنشر نے ۲۸ نومبر کو فورا بے کالج میں مسلم ایجوکیشن پر لیکچر دیتے ہوئے اس امر کا اعتراف کیا کہ جماعت احمدیہ کو مغربی افریقہ میں اسلامی تعلیم کی ترویج میں تقدم حاصل ہے۔مسٹر فشر کے علاوہ مدینہ منورہ سے ایک سرکاری وفد سیرالیون آیا۔اسے احمد یہ سکول دیکھنے کا موقع ملا۔چنانچہ اُس نے لاگ بک LOG BOOK میں اپنے تاثرات کا اچھے الفاظ میں اظہار کیا۔ایک اور دوست بھی مدینہ منورہ سے تشریف لائے تھے اور اپنے آپ کو مبلغ اسلام بتاتے تھے۔چار روز تک مولوی بشارت احمد صاحب بشیر کے ہاں قیام کیا۔یہ دوست حافظ قرآن بھی تھے۔جب انہوں نے ہم سے قرآن مجید کی تفسیر سنی تو بے اختیار بولے کہ اگر کسی نے قرآن مجید کی تفسیر سیکھنی ہو تو پاکستان جائے۔اس پر مولوی صاحب موصوف نے بتایا کہ یہ نعمت پاکستان کے شہر ربوہ سے ہی حاصل ہوسکتی ہے۔آپ نے بتایا کہ قرآن مجید میں متعدد آیات ایسی پائی جاتی ہیں جن سے زمین کی حرکت ثابت ہے۔احمدیہ مسلم سیکنڈری سکول بو کے لئے عرصہ سے ایک مسجد کی ضرورت بڑی شدت سے محسوس کی جارہی تھی۔سکول کے پرنسپل منور احمد صاحب ایم۔ایس سی نے اس کا ایک منصو بہ تیار کیا اور اس کا سنگ بنیاد بھی رکھ دیا گیا۔اور اس کی بنیادیں بھر دی گئیں۔جس کے جملہ اخراجات ادا کرنے کی سعادت منور احمد صاحب کے حصے میں آئی۔بعد میں بعض وجوہ کی بناء پر یہ منصوبہ معرض التوا میں