تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 422
تاریخ احمدیت۔جلد 24 422 سال 1967ء چلا گیا۔ستمبر ۱۹۶۷ء میں مولوی عبد الشکور صاحب امیر جماعت احمد یہ سیرالیون کی اجازت اور حوصلہ افزائی سے اس منصوبے کا احیاء کیا گیا۔اور انومبر ۱۹۶۷ء کو اس کے تعمیری منصوبے کے کام کا افتتاح عمل میں آیا۔اس موقعے پر امیر صاحب اور متعدد مبلغین کرام اور مقامی احمدیوں کے علاوہ بوشہر کے ممتاز مسلمان اور سرکاری حکام و افسران بھی تشریف لائے۔اس تقریب کی تفصیلی خبر روز نامہ DAILY MAIL میں طبع ہوئی۔فری ٹاؤن (سیرالیون) کے اخبار ڈیلی میل نے اپنی ۴ امئی ۱۹۶۷ء کی اشاعت میں ایک مزید احمد یہ سیکنڈری سکول کھلنے کی خبر کو نمایاں طور پر شائع کیا اور لکھا کہ اس عمارت کی تعمیل سرعت سے جاری ہے۔سنگ بنیادرکھنے کی تقریب پر ارد گرد کے مختلف علاقوں سے متعدد مقتدر اصحاب تشریف لائے ہوئے تھے۔18 غانا اس سال ۶،۵، ۷ جنوری ۱۹۶۷ء کو جماعت احمد یہ غانا کی بیالیسویں کامیاب سالانہ کانفرنس منعقد ہوئی۔جس میں اسلام واحمدیت کے چھ ہزار پروانوں کا اجتماع ہوا۔کانفرنس کے آخری اجلاس میں ایثار و قربانی کے ایمان افروز مناظر دیکھنے میں آئے۔اس حقیقت کا کسی قدر اندازہ کانفرنس کی مطبوعہ رپورٹ کے مندرجہ ذیل اقتباس سے ہو سکے گا۔چنانچہ لکھا ہے کہ:۔جماعتوں نے ایک نئے جوش اور اخلاص سے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر قربانی پیش کرنے کا آغاز کیا۔یہ نظارہ دیکھنے سے متعلق تھا کہ مسیح محمدی کے متبعین اور شمع احمدیت کے پروانے کس طرح ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں تھے۔اور قرآنی آیت فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ ( البقرہ: ۱۴۹) کا ایک زندہ اور عملی نمونہ پیش کر رہے تھے۔نعرے لگ رہے تھے۔جوش دلانے والے گیت لوکل زبان میں پڑھے جا رہے تھے۔اور قرآن کریم کی آیات اور درود شریف کی تلاوت لاؤڈ سپیکر پر ہو رہی تھی۔اور احباب جماعت اشاعت اسلام کی خاطر بڑھ چڑھ کر رقوم پیش کر رہے تھے۔اگر ایک جماعت زیادہ رقم پیش کر کے سبقت لے جاتی تو دوسری جماعت پھر سے اپنے ممبران سے چندہ اکٹھا کرنا شروع کر دیتی اور پہلے سے بھی زیادہ رقم پیش کر کے ان سے بڑھ جاتی پھر تیسری آگے آجاتی۔یہ سلسلہ قریباً دو گھنٹہ تک جاری رہا۔آخر دو جماعتوں میں مقابلہ تھا اشانٹی اور ا کونفی