تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 414
تاریخ احمدیت۔جلد 24 414 سال 1967ء عیدالاضحیہ کی تقریب میں پاکستان، ترکی اور مصر کے سفرائے کرام نیز تیونس اور نائیجیریا کے سفارتخانوں کے سیکرٹری صاحبان اور دوسرے سفارتی نمائندوں نے شرکت کی۔مزید برآں متعدد ممالک کے مسلمان احباب بھی کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔سوئس ریڈیو اور ٹیلی ویژن نے عید کی تقریب کا ریکارڈ تیار کیا۔یکم ستمبر ۱۹۶۷ء کو چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ نے ایک پادری صاحب ہائن سٹائن (HALLENSTEIN) کے ساتھ تقریباً دو گھنٹے تک نہایت دلچسپ اور مفید تبادلہ خیال کیا۔آپ نے مسیح کی بن باپ ولادت کے ذکر پر بتایا کہ یہ فضیلت کی دلیل نہیں کیونکہ طبی تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ نہ صرف ادنی کیڑوں میں بلکہ انسانوں میں بھی بغیر باپ کے بچے پیدا ہو جاتے ہیں اس پر پادری ہائن سٹائن نے کہا کہ ہمارے نزدیک تو مسیح علیہ السلام کی بن باپ ولادت تاریخی لحاظ سے درست نہیں ہے اور ہم اس نظریہ کو تسلیم ہی نہیں کرتے کہ وہ بن باپ پیدا ہوئے تھے۔باجوہ صاحب نے بائبل کی تاریخی حیثیت پر تنقید شروع کی تو انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ اعتراف ہے کہ آپ اس بارے میں ہم سے زیادہ واقفیت رکھتے ہیں۔پادری صاحب نے اپنی تعلیم کے دوران کے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارا امتحان قریب تھا۔ہمارے نصاب کا ایک حصہ بائبل پر تنقید بھی تھا۔ہمارے پروفیسر نے کہا کہ اس بارہ میں وسیع لٹریچر موجود ہے۔لیکن آپ اس سارے لٹریچر کو کہاں پڑھیں گے میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ جماعت احمدیہ کے شائع کردہ قرآن کریم کے دیباچہ کے قریباً پچاس صفحات جن میں بائبل پر تنقید کی گئی ہے، پڑھ لیں۔بس یہی کافی ہوگا۔65 اس موقعے پر پادری صاحب اپنے ساتھ پچیس نو جوانوں کو بھی لائے تھے۔اس پُر لطف علمی مجلس کے پانچویں روز پانچ ستمبر کو ہوئر گن (HORGEN) کے قصبہ سے ٹمپر لیس سوسائٹی کے ارکان اپنے صدر ڈاکٹر ہوئی (HOEBI) کی قیادت میں آئے۔ان میں نوجوان بھی تھے اور بوڑھے بھی۔لیکن اسلام کے اس حکم کہ شراب نہ پی جائے، نے ان کی طبائع میں ایک سنجیدگی اور سوچ کا مادہ پیدا کر دیا تھا۔اور آپ کی ابتدائی تقریر کے بعد ان کے ساتھ تبادلہ خیالات خاصہ پر لطف رہا۔یقیناً شراب کے خلاف جدو جہد کرنے والوں کے لئے یہ امر حیرت کا موجب ہے کہ کس طرح آنحضرت ﷺ نے اسلامی معاشرہ کو شراب سے بالکل پاک کر دیا۔یکم ستمبر کی تقریب پر پادری صاحب اور نوجوانوں نے سلسلہ کی کتب خریدیں۔لیکن سوسائٹی کے