تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 413
تاریخ احمدیت۔جلد 24 413 سال 1967ء سوئٹزرلینڈ یورپ کے دوسرے مشنوں کی طرح عیدالفطر اور عیدالاضحیہ کی مبارک تقاریب پر سوئٹزر لینڈ کی مسجد محمود میں بھی مختلف ممالک کے مسلمانوں کا روح پرور اجتماع ہوا۔خطبات عید چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ بی اے ایل ایل بی امام مسجد محمود نے ارشاد فرمائے جو بہت اثر انگیز اور معلومات سے لبریز تھے۔عیدالفطر (۱۲ جنوری) میں سفیر جمہوریہ متحدہ عربیہ ہز ایکسی لینسی محمد توفیق بھی اپنی بیگم اور صاحبزادیوں کے ساتھ شامل ہوئے۔اس تقریب پر احمد یہ مشن کی طرف سے ریفریشمنٹ کا وسیع پیمانے پر انتظام تھا۔مردوں کے لئے لیکچر روم میں اور خواتین کے لئے ڈرائنگ روم اور ملحقہ حصہ میں انتظام کیا گیا۔دونوں کی تعداد یک صد سے اوپر ہوگی۔تقریب عید میں شرکت کرنے والے غیر مسلم معززین میں سے جرمن قونصل ڈاکٹر نیونکر (NIEMOELER) عملی نفسیات کے ماہر ڈاکٹر ہیز بر (HOESBER)، زیورک کے ایک بااثر دوست جو بلدیہ کے رکن ہیں مسٹر ارنسٹ ڈینز (ERNST DIENER) قابل ذکر ہیں۔ان کے علاوہ یو نیورسٹی کے غیر مسلم طلباء اور بعض اور غیر مسلم زیرتبلیغ احباب اور خواتین تھیں۔عید کی شام کو سات بجے سوئس ٹیلی ویژن نے ”مسجد محمود زیورک میں عید کی فلم دکھائی۔ابتدا میں مسجد کا بیرونی منظر بھی دکھایا گیا۔سوئس ٹیلی ویژن نے اس عید کی تقریب میں ہزاروں لاکھوں افراد کو شریک کر لیا۔اور فلم ایسے انداز میں تیار کی گئی جو اسلام کے لئے اچھا تاثر پیدا کرنے والی تھی۔عید سے اگلے روز ۱۳ جنوری جمعہ کی شام کو ترک احباب نے اپنے رنگ میں تقریب عید منانے کا اہتمام کیا۔جس میں چوہدری مشتاق احمد صاحب کو بھی مدعو کیا گیا۔اس مجلس کے صدر جناب بے مصطفیٰ یا مسز (BAY MUSTAFA YAMSIZ) ایک ترک انجینئر تھے۔انہوں نے چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ سے تقریر کی خواہش کی۔آپ نے روزوں کا مقصد اور عید کی غایت بیان کی آپ کی تقریر کے بعد پھر صاحب صدر نے تقریر کی اور فرمایا کہ ہم اس جماعت سے نہیں تعلق رکھتے جس کے یہ امام ہیں۔لیکن ہم ان کے کام کو قدر و عظمت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔یہ دین کی اہم خدمت بجالا رہے ہیں۔اور ہمیں ان کے ساتھ تعاون میں خوشی ہے۔63