تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 405
تاریخ احمدیت۔جلد 24 405 سال 1967ء یعنی حضرت شیخ نورالدین ابراہیم آف چر بون کی تبلیغی کاوشوں سے جزیرہ کے مشرقی علاقوں میں اسلام چند سال بعد، غالباً آئندہ صدی کے شروع میں، متعارف کرایا گیا۔ایک مبروصہ کی آپ کے ہاتھوں شفایابی سے آپ کو بہت شہرت نصیب ہوئی۔نتیجہ ہزاروں لوگ نئے دین (اسلام) کے عقائد سے آگہی حاصل کرنے کے لئے آپ کے پاس آگئے۔شروع میں قریبی سرداروں نے اس تحریک کی راہ میں روک بننا چاہا۔یہ جان کر کہ مخالفت کا کوئی فائدہ نہیں، بالآخر انہوں نے بھی قبولِ اسلام کی لہر کا ساتھ دینا قبول کر لیا۔اُن میں سے اکثر مسلمان ہو گئے۔“ اس جگہ جماعت احمدیہ کا قیام ۱۹۵۴ء میں عمل میں آیا اور مسجد کی بنیاد بھی اسی سال رکھی گئی۔اس جماعت کے قیام میں مولوی عبد الواحد صاحب ( قائم مقام) رئیس التبلیغ ، مولوی محمد زہدی صاحب (مبلغ بانڈ ونگ)، مولوی عبدالرشید صاحب ارشد ( مبلغ پورو کر تو وسطی جاوا ) اور سب سے بڑھ کر دیہاتی مبلغ حاجی بصری صاحب کی کوششوں کا بھاری عمل دخل تھا اس علاقہ میں جس شخص کو سب سے پہلے احمدیت کی طرف توجہ پیدا ہوئی۔وہ اس وقت کے نمبردار صاحب علاقہ بینگ (BENING) تھے۔جنہوں نے اپنے زمانہ تعلیم میں گاروت کے ایک مخلص احمدی طہ صاحب سے احمدیت کا ذکر سنا۔یہ ذکر ایک بیج تھا جو بعد میں درخت بن گیا۔اس گاؤں کی آبادی ۱۹۶۷ء میں قریباً ڈھائی ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔جن میں سے دو ہزار کے قریب احمدی تھے۔جس وقت اس گاؤں کے لوگوں کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔اس وقت لوگ دینی و دنیاوی لحاظ سے بہت پیچھے تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت قبول کرنے کے بعد انہیں ظاہری اور باطنی ترقیوں سے وافر حصہ ملا۔چنانچہ غیر معمولی دینی وروحانی ترقیات پانے کے ساتھ ساتھ دیہی تنظیم میں بھی ان لوگوں نے کافی ترقی کرلی۔اس علاقہ میں ان کا گاؤں ایک مثالی گاؤں قرار دیا گیا تھا۔سو اس ضمن میں ایک تقریب میں جوان لوگوں کی عزت افزائی کے لئے منعقد کی گئی تھی۔انڈونیشیا کے مشہور لیڈر اور سابق نائب صدر ڈاکٹر محمد عطا صاحب بھی آئے تھے۔جلسہ کے انتظامات کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔جس کے بعد مینس اور کی مخلص جماعت نے زور وشور سے تیاریاں شروع کر دیں۔مشن کی طرف سے ان کی رہنمائی کے لئے پہلے صدر جناب شکری صاحب پھر جناب سو جاوی صاحب تشریف لے گئے اور قریباً ایک ماہ وہیں رہے۔جلسہ سے ایک ہفتہ قبل مولوی محی الدین صاحب مبلغ سلسلہ مع اپنی بیگم کے دن رات انتظامات میں مصروف عمل