تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 404 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 404

تاریخ احمدیت۔جلد 24 404 سال 1967ء ہوئی اور اس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ انڈونیشیا کے احمدیوں کا مستقل پہلا جلسہ سالانہ مغربی جاوا کی ایک بستی مینس لور (MANIS LOR) میں ۲۶، ۲۷ / اگست ۱۹۶۷ء کو منعقد ہو۔مینس اور کی بستی چربون (CHERIBON) کے تاریخی اور ساحلی شہر کے جنوب میں پندرہ میل کے فاصلے پر پہاڑی علاقہ میں واقع ہے۔مغربی جاوا میں اسلام کی اشاعت میں اس شہر نے عظیم کردار ادا کیا تھا۔اس شہر کے ابتدائی مجاہدین کا نام آج تک زبان زد خلائق ہے حضرت فتح اللہ کا شمار جاوا کے نو قدیم اولیائے عظام میں ہوتا ہے آپ کا مزار شہر کے قریب گنگ جاتی نامی ایک پہاڑی پر آج تک موجود ہے لوگ اس کو مسونان گننگ جاتی کہتے ہیں۔(انڈونیشیا صفحہ ۴۷ مولفہ شاہد حسین رزاقی ناشر ادارہ ثقافت اسلامیہ لاہور طبع دوم ۱۹۷۴ء) پروفیسر سر تھامس آرنلڈ THOMAS ARNOLD کی کتاب THE PREACHING OF ISLAM سے معلوم ہوتا ہے کہ چر بون CHERIBON حضرت شیخ نورالدین ابراہیم جیسے عظیم بزرگ اور داعی اسلام کا مرکز تھا۔جہاں سے پورے مغربی جاوا میں اسلام کا نور پھیلا۔محمد عنایت اللہ صاحب دہلوی نے سرسید احمد خان کی ہدایت پر جون ۱۸۹۸ء میں اس محققانہ تالیف کا اردو ترجمہ شائع کیا۔تو اصل کتاب کے حوالہ سے یہ بھی لکھا کہ یہ بزرگ مدت تک مجمع الجزائر میں سیر و سیاحت کے بعد ۱۴۲۱ء میں چر بون میں آباد ہو گئے۔پروفیسر آرنلڈ کے اصل الفاظ یہ ہیں:۔49- "Islam was introduced into the eastern parts of the island some years later, probably in the beginning of the following century, through the missionry activity of Shaykh Nur-al-Din Ibrahim of Cheribon۔He won for himself a great reputation by curing a woman afflicted with leprosy, with the result that thousands came to him to be instructed in the tenets of the new faith۔At first the neighbouring chiefs tried to set themselves against the movement, but finding that their opposition was of no avail, they suffered themselves to be carried along with the tide and many of them became coverts to Islam۔50